اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 170

اصحاب بدر جلد 3 170 حضرت عمر بن خطاب عرب عیسائی تھے انہوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔عربوں کا یہ دستور تھا کہ وہ شہر کی حفاظت کے لیے شہر سے باہر نکل کر خیمے ڈال دیتے تھے۔چنانچہ یہ عیسائی عرب بھی اسی دستور کے مطابق باہر خیمہ زن تھے۔سخت معر کے کے بعد حضرت خالد نے رومیوں کا بہت سا لشکر قتل کر دیا اور ان کے سردار میناس کو بھی قتل کر دیا۔علاقے کے لوگوں نے حضرت خالد بن ولید کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم عرب لوگ ہیں اور جنگ کرنے پر راضی ہی نہ تھے۔ہمیں زبر دستی اس جنگ میں شامل کیا گیا تھا۔لہذا ہم سے در گزر کیا جائے۔اس پر حضرت خالد نے ان کا عذر قبول کیا اور ان سے اپنا ہاتھ روک لیا۔کچھ رومی بھاگ کر قنسرین میں قلعہ بند ہو گئے۔حضرت خالد نے ان کا تعاقب کیا لیکن جب وه قنسرین پہنچے تو رومی شہر کے دروازے بند کر چکے تھے۔یہ دیکھ کر حضرت خالد نے ان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ اگر تم بادلوں میں بھی جا چھپو گے تو اللہ تعالیٰ ہم کو تمہارے پاس پہنچا دے گا یا تمہیں ہماری طرف پھینک دے گا۔کچھ دن تو وہ یو نہی قلعہ بند ر ہے لیکن آخر کار قشیرین والوں کو یقین ہو گیا کہ اب کوئی راہ نجات نہیں۔چنانچہ انہوں نے درخواست کی کہ حمص کی صلح کی شرائط پر انہیں امان دی جائے لیکن انہوں نے جو پہلے حکم عدولی کی تھی حضرت خالد انہیں اس حکم عدولی کی سزا دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔اس لیے حضرت خالد شہر کو تباہ کرنے کے سوا اور کسی بات پر راضی نہ ہوئے۔اہل قنسرین اپنے مال و متاع اور اہل و عیال کو تقدیر کے حوالے کر کے انکا کیہ بھاگ گئے۔جس وقت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح قنسرین پہنچے تو انہوں نے حضرت خالد بن ولیڈ کے اس فیصلے کو عدل و انصاف کے عین مطابق پایا اور شہر کے قلعے اور فصیلیں منہدم کر دیں۔اس کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ انصاف کے ساتھ شفقت کا سلوک بھی ہونا چاہیے۔یہ تو انصاف تھا جو پہلے دشمنوں سے کیا گیا، اب شفقت بھی مسلمانوں کو کرنی چاہیے۔پھر انہوں نے شفقت کے لیے یہ کیا کہ اہلِ شہر کو ان کی درخواست کے مطابق امان بھی دے دی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہر کے کلیسا اور مکان تقسیم کر دیے گئے۔چرچ بھی اور مکان بھی تقسیم کر دیے گئے اور نصف حصہ پر مسلمان قابض ہو گئے ، نصف حصہ انہی کے پاس رہنے دیا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ شہر کی کچھ زمین لے کر وہاں مسجد تعمیر کر دی گئی اور باقی سب کچھ بدستور اہل علاقہ کے قبضہ میں ہی رہنے دیا۔جو لوگ آنکا کیہ بھاگ گئے تھے وہ بھی جزیہ قبول کر کے واپس آگئے تھے۔دوسرے مفتوحہ علاقوں کی طرح یہاں کے لوگوں سے بھی بہتر سلوک کیا گیا اور صحیح مساوات کی بنیاد پر ان کے درمیان عدل قائم کیا گیا جس میں کوئی طاقتور کسی بھی کمزور پر ظلم وجبر نہیں کر سکتا تھا۔11 پھر فتح قیساریہ ہے۔یہ بھی پندرہ ہجری کی ہے۔قیساریہ شام کا ساحلی شہر ہے جو طبریہ سے تین دن کی مسافت پر واقع تھا۔یہ جنگ کس سال میں ہوئی؟ اس کے بارے میں متفرق روایات ملتی ہیں۔ایک تو ہے کہ پندرہ ہجری۔دوسرے قول کے مطابق سولہ ہجری میں ہوئی اور تیسری