اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 144

محاب بدر جلد 3 حضرت نعمان بن مقرن بطور کمانڈر 144 حضرت عمر بن خطاب حضرت عمر کی تیز نگاہ نے حضرت نعمان بن مقرن کو اس ذمہ داری کے لیے منتخب کیا جو آنحضرت صلی علیم کے بزرگ صحابہ میں سے تھے۔8 248 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت نعمان مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ حضرت عمر تشریف لائے اور انہیں دیکھ کر ان کے پاس جا بیٹھے۔نعمان نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ میں تمہیں ایک عہدے پر مامور کرنا چاہتا ہوں۔حضرت نعمان بولے اگر کوئی فوجی عہدہ ہے تو میں حاضر ہوں لیکن اگر ٹیکس جمع کرنے کا کام ہے تو وہ مجھے پسند نہیں۔حضرت عمر نے فرمایا کہ نہیں فوجی عہدہ ہے۔249 لیکن جو بات حقائق سے زیادہ قریب لگتی ہے وہ طبری کی یہ روایت ہے۔نہاوند کے محاذ پر حضرت نعمان بن مقرن کو مقرر کرنے کے بارے میں جو طبری میں لکھا ہے جیسا کہ میں نے کہا وہ یہ ہے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ نہاوند کے واقعات میں یہ بھی مذکور ہے کہ نعمان بن مقرن گشگر پر عامل مقرر تھے۔انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھا کہ سعد بن ابی وقاص نے مجھے خراج کی وصولی پر لگایا ہوا ہے جبکہ مجھے جہاد پسند ہے اور اس کی خواہش اور غبت ہے۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے سعد بن ابی وقاص کو لکھا کہ نعمان نے مجھے لکھا ہے کہ آپ نے اسے خراج کی وصولی پر لگایا ہوا ہے جبکہ اسے یہ کام ناپسند اور جہاد میں رغبت ہے۔اس لیے انہیں نہاوند میں اہم ترین محاذ پر بھیج دیں۔الغرض یہ اہم کمان حضرت نعمان بن مقرن کے سپر د ہوئی اور وہ دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے۔حضرت عمرؓ نے جب وہ غالبا کو فہ میں تھے انہیں یہ خط لکھا۔یہ خط بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ وہ مدینہ میں نہیں تھے بلکہ کوفہ میں تھے تو اس وقت یہ خط لکھا اور خط اس طرح شروع کیا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔نعمان بن مُقَرِن کے نام۔سَلَامٌ عَلَيْكَ۔پھر تحریر فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اما بعد مجھے اطلاع ملی ہے کہ ایرانیوں کا ایک زبر دست لشکر شہر نہاوند میں تمہارے مقابلے کے لیے جمع ہوا ہے۔میرا یہ خط جب تمہیں ملے تو خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کی تائید و نصرت کے ساتھ اپنے ساتھی مسلمانوں کو لے کر روانہ ہو جاؤ مگر انہیں ایسے خشک علاقے میں نہ لے جانا جہاں چلنا مشکل ہو۔ان کے حقوق ادا کرنے میں کمی نہ کرنا مبادا وہ ناشکر گزار بنیں اور نہ ہی کسی دلدل کے علاقے میں لے جانا کیونکہ ایک مسلمان مجھے ایک لاکھ دینار سے زیادہ محبوب ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ اس حکم کی تعمیل میں حضرت نعمان دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے۔آپ کی معیت میں بعض ممتاز اور بہادر مسلمان مثلاً حذيفه بن يمان ابن عمر ، جرير بن عبد الله تجلي ، مُغيرة بن شُعْبَه، عمر و بن مَعْدِیگرب، طلیحہ بن خویلد اسدی اور قیس بن مكشوح مراد بھی تھے۔250 حضرت عمر نے ہدایت کی تھی کہ اگر نعمان بن مقرن شہید ہو جائیں تو امیر ، حذیفہ بن یمان ہوں