اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 145
145 حضرت عمر بن خطاب اصحاب بدر جلد 3 گے۔ان کے بعد جریر بن عبد اللہ بجلی۔ان کے بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ اور ان کی شہادت پر اشعث بن قیں۔عمرو بن مَعْدِيَكَرِب اور طلیحہ بن خویلد کے بارے میں نعمان کو حضرت عمرؓ نے یہ لکھا کہ عمر و بن مَعْدِيكَرِب اور طلیحہ بن خویلد دونوں تمہارے ساتھ ہیں۔یہ دونوں عرب کے شہسوار ہیں۔253 ان سے جنگی امور میں مشورہ لیتے رہنا مگر ان کو کسی کام میں افسر نہ بنانا۔251 بہر حال اسلامی لشکر روانہ ہوا۔حضرت نعمان نے جاسوسوں کے ذریعہ معلوم کر لیا تھا کہ نہاوند تک راستہ صاف ہے جہاں دشمن کا لشکر جمع تھا۔252 قبل از میں جو اطلاعات ملی تھیں ان سے معلوم ہو تا تھا کہ دشمن بہت بڑی تعداد میں جمع ہو رہا ہے۔مؤرخین نے اس لشکر کی تعداد ساٹھ ہزار اور ایک لاکھ بھی لکھی ہے۔مگر بخاری کی جو روایت ہے اس کے مطابق یہ تعداد چالیس ہزار تھی۔254 یعنی جو پہلے ساٹھ ہزار یالا کھ ہے یہ مبالغہ ہے۔بخاری کے مطابق تو دشمن کی تعداد چالیس ہزار تھی۔دشمن نے چاہا کہ کسی شخص کو گفتگو کے لیے بھیجا جائے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ تشریف لے گئے۔ایرانیوں نے بڑی شان و شوکت سے مجلس منعقد کی۔ایرانی سپہ سالار سر پر تاج پہنے سنہری تخت پر الله متمكن تھا۔درباری ایسے ہتھیار لگائے بیٹھے تھے کہ دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں۔مترجم موجود تھا۔ایرانی سپہ سالار نے وہی پرانی کہانی دہرائی۔اہل عرب کی زندگی کے ہر پہلو کے لحاظ سے رذیل حالت کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اپنے سرداروں کو جو میرے گرد بیٹھے ہیں اس لیے تم لوگوں کو ختم کر دینے کا نہیں دیتا کہ میں نہیں چاہتا کہ تمہارے گندے اجسام سے ان کے تیر ناپاک ہوں۔(نعوذ باللہ ) اگر اب بھی تم واپس چلے جاؤ تو ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں ورنہ پھر میدان جنگ میں تمہاری لاشیں نظر آئیں گی۔دشمن کی ان مضحکہ خیز دھمکیوں سے کیا ہوتا تھا۔حضرت مغیرہ نے فرمایا کہ اب وہ زمانہ گیا جو آنحضرت صلی علیہ کم کی بعثت سے پہلے ہو تا تھا۔آپ صلی ہیم کی آمد نے نقشہ ہی بدل دیا ہے۔255 سفارت ناکام ہوئی بہر حال اور دونوں لشکر معرکہ آرائی کے لیے تیار ہوئے۔اسلامی لشکر کے مقدمے پر نعیم بن مقرن مقرر تھے۔بازوؤں کی کمان حذیفہ بن یمان اور سوید بن مقرن کے ہاتھ میں تھی۔مُجردہ کے افسر قعقاع بن عمر و تھے۔مجردہ گھڑ سواروں کی جو فرنٹ لائن کے گھڑ سواروں کا رسالہ ہے اس کو کہتے ہیں اور لشکر کا پچھلا حصہ مُجاشع کی سر کردگی میں تھا۔256 جھڑ ہیں شروع ہو گئیں مگر میدان جنگ کی صورت حال مسلمانوں کے لیے سخت ضرررساں تھی کیونکہ دشمن خندقوں، قلعوں اور مکانوں کی وجہ سے محفوظ تھا۔مسلمان کھلے میدان میں تھے۔دشمن جب اپنے لیے مناسب دیکھتا اچانک باہر نکل کر حملہ کر دیتا اور پھر واپس اپنے محفوظ مقامات میں داخل ہو جاتا۔257 اسلحہ کے لحاظ سے دشمن کی یہ حالت تھی کہ ایک راوی کا بیان ہے کہ میں نے انہیں ایک جگہ گزرتے دیکھا ایسے معلوم ہو تا تھا گویا لوہے کے پہاڑ ہیں۔258