اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 143

اصحاب بدر جلد 3 143 حضرت عمر بن خطاب علاقوں میں مقرر کر دیا جائے جن سے صلح ہو چکی ہے تاکہ جنگ کے وقت وہاں کے لوگ عہد شکنی کر کے بغاوت نہ کر بیٹھیں اور ایک حصہ مسلمانوں کے لیے ، کوفہ والوں کی امداد کے لیے روانہ کر دیا جائے۔244 اسی طرح کوفہ والوں کو لکھ دیں کہ ایک حصہ فوج کا وہیں مقیم رہے اور دوحصے دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ ہوں۔اور اسی طرح شام کی افواج کو حکم بھیج دیں کہ دو حصے فوج شام میں مقیم رہے اور ایک حصہ ایران روانہ کر دی جائے اور اس قسم کے احکام عمان اور ملک کے دوسروں علاقوں اور شہروں کے نام صادر کر دیے جائیں۔245 آپ کا خود محاذ جنگ پر جانا اس لیے مناسب نہیں کہ آپ کی پوزیشن تو اس لڑی کی سی ہے جس میں موتی پروئے ہوتے ہیں۔اگر لڑی کھل جائے تو موتی بکھر جائیں گے اور پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں گے اور پھر اگر ایرانیوں کو یہ معلوم ہوا کہ خود حاکم عرب محاذ جنگ پر آیا ہے تو وہ اپنی پوری طاقت صرف کریں گے اور اپنا پورا زور لگا کر مقابلہ کے لیے آئیں گے۔اور یہ جو آپ نے دشمن کی افواج کی نقل و حرکت کا ذکر کیا ہے تو خدا تعالیٰ آپ کی نقل و حرکت کے مقابلہ میں دشمن کی نقل و حرکت کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے اور وہ یعنی اللہ تعالیٰ جس چیز کو نا پسند کرتا ہے اس کو بدل ڈالنے کی بہت قدرت رکھتا ہے۔اور یہ جو آپ نے دشمن کی تعداد کی زیادتی کا ذکر کیا ہے تو ماضی میں ہماری روایات کثرت تعداد کے بل پر لڑائی کرنا نہیں بلکہ ہماری جنگ خدائی امداد کے بھروسے پر ہوتی ہے اور ہمارے معاملے میں فتح و شکست فوج کی کثرت و قلت پر نہیں۔یہ تو خدا کا دین ہے جس کو خدا نے غالب کیا ہے اور اس کا لشکر ہے جس کی اس نے مدد کی اور ملائکہ کے ذریعہ ان کی وہ تائید کی کہ اس سے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے۔ہم سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اللہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اور اپنے لشکر کی مدد کرے گا۔246 حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ اگر میں خود روانہ ہوا تو ادھر مسلمان تمام اطراف و اکناف سے ٹوٹ پڑیں گے اور اُدھر خود ایرانی پورے زور سے اپنے ساتھیوں کی امداد کے لیے نکلیں گے اور یہ کہیں گے کہ عرب کا سب سے بڑا حاکم خود میدان جنگ میں نکلا ہے۔اگر اس معرکے کو ہم نے جیت لیا تو گویا سارے عرب کو مار لیا۔اس وجہ سے میر اجانا مناسب نہیں۔یعنی کہ دشمن یہ کہے گا کہ اگر ہم نے جیت لیا تو سارے عرب یہ ہمارا قبضہ ہو گیا۔اس وجہ سے میرا جانا مناسب نہیں۔آپ لوگ مشورہ دیں کہ کس شخص کو لشکر کا کمانڈر بنایا جائے مگر ایسے شخص کا نام لیا جائے جو عراق کی جنگوں میں شریک ہو کر تجربہ حاصل کر چکا ہو۔لوگوں نے حضرت عمر کو کہا کہ حضور خود ہی اہل عراق اور وہاں کے لشکر کے متعلق زیادہ علم رکھتے ہیں۔وہ لوگ آپ کے پاس وفد بن کر آتے رہے ہیں۔آپ کو انہیں پر کھنے اور ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے۔247