اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 142

اصحاب بدر جلد 3 142 حضرت عمر بن خطاب رکھیں۔میں پاتا ہوں کہ آپ مختصر امجھے مشورہ دیں کہ کیا یہ مناسب ہو گا کہ میں خود اس وقت ایران کو روانہ ہوں اور بصرہ و کوفہ کے درمیان کسی مناسب مقام پر قیام کر کے اپنے لشکر کا مددگار ہوں اور اگر خدا کے فضل سے اس معرکہ میں فتح ہو جائے تو اپنے لشکر کو دشمن کے علاقے میں مزید پیش قدمی کے 239 لیے روانہ کروں۔حضرت عمرؓ کی تقریر کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اللہ کھڑے ہوئے اور تشہد کے بعد بولے کہ اے امیر المومنین ! امور مملکت نے آپ کو دانشمند بنا دیا ہے اور تجارب نے آپ کو ہوشیار بنا دیا ہے۔آپ جو چاہیں کیجیے اور جو آپ کی اپنی رائے ہے اس پر عمل کیجیے۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔آپ ہمیں حکم دیں، ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔ہمیں بلائیں، ہم آپ کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ہمیں بھیجیں، ہم روانہ ہو جائیں گے۔آپؓ ہمیں ساتھ لے جانا چاہیں، ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔آپ نے خود ہی اس امر کا فیصلہ کیجیے کیونکہ آپ باخبر اور تجربہ کار ہیں۔طلحہ یہ کہ کر بیٹھ گئے مگر حضرت عمرؓ مشورہ لینا چاہتے تھے۔آپ نے فرمایا: لو گو کچھ کہو کیونکہ آج کا موقع ایسا ہے جس کے نتائج دیر پا ہیں۔اس پر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے امیر المومنین میری رائے یہ ہے کہ آپ شام اور یمن میں یہ احکامات بھیج دیں کہ وہاں کی اسلامی افواج ایران کی طرف روانہ ہوں۔240 اسی طرح بصرہ کی افواج کو احکام بھیج دیں کہ وہاں سے بھی فوجیں روانہ ہو جائیں اور آپ خود یہاں سے حجاز کی افواج کو لے کر کوفہ کی طرف روانہ ہوں۔241 اس صورت میں وہ جو دشمن کی کثرت تعداد کے خطرے کا احساس آپ کو ہے وہ دُور ہو جائے گا۔یہ موقع واقعی ایسا ہے جس کے نتائج دیر پا ہوں گے۔اس لیے آپ کی اس میں خود اپنی رائے اور اپنے رفقائے کار کے ساتھ موجودگی ضروری ہے۔242 243 یعنی خود جانا چاہیے فرنٹ لائن پر۔حضرت عثمان کی یہ تجویز مجلس کے اکثر لوگوں کو پسند آئی اور مسلمان ہر طرف سے بولے کہ یہ ٹھیک ہے۔اس کو بھی حضرت عمرؓ نے مانا نہیں۔آپؐ نے فرمایا کہ مزید مشورہ دو۔پھر حضرت علی کھڑے ہو گئے۔ایک لمبی تقریر کی جس میں فرمایا امیر المومنین ! اگر آپ نے شام کی افواج کو وہاں سے ہٹ جانے کا حکم دیا تو وہاں رومی حکومت کا قبضہ ہو جائے گا اور اگر یمن سے اسلامی افواج ہٹ آئیں تو حبشہ کی حکومت وہاں قبضہ کرلے گی۔اگر آپ خود یہاں سے روانہ ہوئے تو ملک کے گوشہ گوشہ سے مسلمان آپؐ کا نام سن کر آپ کی معیت کے لیے امڈ پڑیں گے اور جس طرح کے خطرے کے مقابلے کے لیے آپ جا رہے ہیں اس سے زیادہ خطرہ ملک خالی ہو جانے کی وجہ سے خود یہاں پیدا ہو جائے گا۔اس کے بجائے حضرت علی نے تجویز یہ دی کہ آپ بصرہ یہ حکم بھیجیں کہ کل فوج کے تین حصے کر دیے جائیں۔ایک حصہ تو اسلامی آبادی میں مکان و اطراف کی حفاظت کے لیے چھوڑا جائے۔ایک حصہ ان مفتوحہ