اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 117
حاب بدر جلد 3 117 حضرت عمر بن خطاب کندی ایک ہزار سات سو یمنی سپاہیوں کے ساتھ شامل ہوئے۔مسلمانوں کے پاس یا پہلے بھی لشکر تھا اور اس لشکر کی تعداد آہستہ آہستہ پھر وہاں تیس ہزار سے زائد ہو گئی۔اس فوج کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس میں ننانوے ایسے صحابی تھے جو آنحضور صلی علیکم کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل ہو چکے تھے۔طبری نے ان کی تعداد ستر سے زائد بیان کی ہے۔تین سو دس سے زائد وہ تھے جنہیں ابتدائے اسلام سے لے کر بیعت رضوان تک آنحضرت صلی اللہ نیلم کی صحبت کا شرف حاصل ہو چکا تھا۔تین سو ایسے اصحاب تھے جو فتح مکہ میں شامل تھے۔سات سو ایسے تھے جو خود صحابی نہ تھے لیکن صحابہ کی اولاد ہونے کا فخر انہیں حاصل تھا۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے شراف پہنچ کر پڑاؤ کیا۔منٹی آٹھ ہزار آدمیوں کے ساتھ مقام ذُو فار جو کوفہ کے قریب پانی کا ایک گھاٹ ہے اس پر مسلمانوں کی کمک کا انتظار کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں ان کا انتقال ہو گیا۔انہوں نے بشیر بن خَصاصیہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔206 مقلی تو وہاں فوت ہو گئے۔شرافی پہنچ کر حضرت سعد نے حضرت عمر کو لشکر کے قیام کے مفصل حالات بھجوائے۔اس پر حضرت عمرؓ نے لشکر کی ترتیب خود مقرر فرمائی اور خط میں تحریر فرمایا کہ تمام لشکر کو دس دس مجاہدین کے احزاب میں تقسیم کر کے ان پر ایک ایک نگران مقرر کر دو اور ان دستوں پر ایک بڑا افسر مقرر کر دینا۔پھر ان کی تعداد کا حساب کر کے ان کو قادسیہ کی طرف روانہ کر دینا۔اپنی کمان میں مغیرہ بن شعبہ کے دستہ کو رکھنا۔حضرت عمر نے سعد کو یہ ہدایت فرمائی کہ مغیرہ بن شعبہ کو ، اس کے دستہ کو اپنی کمان میں رکھنا۔اس کے بعد کے حالات کی تفصیل مجھے روانہ کرنا اور پھر جو روز کی development ہو گی یا جو حالات پید اہوں گے مجھے بتاتے رہنا۔حضرت سعد نے ان ہدایات کے مطابق لشکر کی ترتیب لگائی اور حضرت عمر کو مفصل حالات لکھے۔ہر دس آدمیوں پر نگران مقرر کرنا اسی نظام کے تحت تھا جو نبی کریم صلی علی کریم کے دور میں رائج تھا۔207 ایک اور خط میں حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کو تحریر فرمایا کہ اپنے دل کو نصیحت کرتے رہو اور اپنی فوج کو وعظ و نصیحت کرتے رہو۔صبر اختیار کرو۔صبر اختیار کرو کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بدلہ نیت کے مطابق ملتا ہے۔جو ذمہ داری تمہارے سپر د ہے اور جو کام تم کرنے جارہے ہو اس میں پوری احتیاط سے کام کرو۔خوب احتیاط سے کام کرو۔خدا سے عافیت چاہو اور لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ کثرت سے پڑھا کرو۔مجھے تحریر کرو کہ تمہارا لشکر کہاں تک پہنچ گیا ہے اور تمہارے مقابلے میں دشمن کا سپہ سالار کون مقرر کیا گیا ہے کیونکہ بعض ہدایات جو میں تحریر کرنا چاہتا تھا صرف اس وجہ سے تحریر نہیں کر سکا کہ مجھے تمہارے اور تمہارے دشمن کے بعض کو ائف کا پوری طرح علم نہیں۔سارے کوائف بھیجو۔پھر میں تمہیں مزید ہدایات دوں گا۔پس مسلمانوں کے لشکر کی منازل میرے پاس بہ تفصیل لکھ بھیجو اور اس علاقے کی کیفیت جو تمہارے درمیان اور ایرانی دارالحکومت مدائن کے درمیان ہے اس طرح لکھ بھیجو کہ