اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 116
حاب بدر جلد 3 116 حضرت عمر بن خطاب مجد میں پانی کا ایک چشمہ ہے۔اس مقام سے آپ نے کہا کہ یہاں سے فوج اکٹھی ہوئی ہے اور یہاں سے شروع کر دو۔اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور اپنے تمام امور میں اسی سے مدد چاہو اور یاد رکھو کہ تم اس قوم کے مقابلہ کے لیے جارہے ہو جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ساز و سامان بڑی کثرت سے ہے۔جنگی طاقت نہایت مضبوط ہے اور ایسے علاقے کے مقابلے کے لیے جارہے ہو جو جنگی لحاظ سے سخت اور محفوظ ہے اور گو اپنی زرخیزی اور سیرابی کے باعث عمدہ علاقہ ہے اور دیکھو! ان کے دھوکے میں نہ آجانا کیونکہ وہ چالاک اور دھوکا دینے والے لوگ ہیں اور جب تم قادسیہ پہنچو تو تم لوگ پہاڑی علاقے کے آخری کنارے اور میدانی علاقے کے شروع کنارے پر ہو گے۔پس تم اس جگہ پر ہی مقیم رہنا اور یہاں سے نہ ہٹنا، جگہ بھی بتادی کہ وہیں رہنا۔جب دشمن کو تمہارے آنے کا علم ہو گا تو وہ مشتعل ہوں گے اور اپنے تمام رسالوں اور پیادہ فوجوں اور پوری قوت کے ساتھ تم پر حملہ آور ہوں گے۔اس صورت میں اگر تم دشمن کے سامنے پوری ثابت قدمی سے جمے رہو گے اور تمہیں دشمن سے لڑائی میں ثواب کی خواہش ہو گی اور تمہاری نیت ٹھیک ہو گی تو مجھے امید ہے کہ تمہیں ان پر غلبہ حاصل ہو گا اور پھر وہ کبھی اس طرح جمع ہو کر تمہارا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور اگر ہوئے بھی تو ان کے قلوب ان کے ساتھ نہ ہوں گے۔ڈرے ہوئے دلوں کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔اور اگر کوئی دوسری صورت پیدا ہو گئی تو تم ایرانی علاقے کے قریب ترین میدانوں سے ہٹ کر یعنی اگر پیچھے ہٹنے کی صورت پیدا ہوتی ہے ، شکست کی صورت پیدا ہوتی ہے تو قریب ترین میدانوں سے ہٹ کر اپنے علاقے کے قریب ترین پہاڑوں میں آجاؤ گے۔اس کے نتیجہ میں تمہیں اپنے علاقے میں زیادہ جرات ہو گی اور اس علاقے سے تم زیادہ واقف ہو گے اور ایرانی تمہارے علاقے میں خوفزدہ ہوں گے اور انہیں اس علاقے سے ناواقفیت بھی ہو گی یہاں تک کہ خدا تعالیٰ دوبارہ ان کے خلاف تمہاری فتح کا موقع پیدا کرے۔آپکو یہ یقین تھا کہ فتح تو ہونی ہے اگر عارضی طور پر کوئی ایسے حالات پیدا بھی ہو جاتے ہیں تب بھی آخری فتح تمہاری ہے۔غرض اس لشکر کی تمام نقل و حرکت حضرت عمرؓ کے مدینہ سے آنے والے تفصیلی احکام کے مطابق ہو رہی تھی۔چنانچہ طبری نے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے شراف سے لشکر کی روانگی کی تاریخ بھی مقرر فرما دی تھی اور یہ بھی ہدایت کی کہ قادسیہ پہنچ کر لشکر کا قیام عُذَيْبُ الْهَجَانَات اور عُذَيْبُ الْقَوَادِس کے مقامات کے درمیان ہو اور یہاں پر لشکر کو شرقاً غرباً پھیلا دیا جائے۔عذیب قادسیہ اور مغیفہ کے رستہ میں پانی کا ایک گھاٹ ہے جو قادسیہ سے چار میل کے فاصلے پر اور مغیفہ سے بتیس میل کے فاصلہ پر ہے۔حضرت عمر کے حضرت سعد بن ابی وقاص کے نام خط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں دو عذیب تھے۔یہ بھی تاریخ سے پتہ لگتا ہے۔205 حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو چار ہزار مجاہدین کے ساتھ ایران کی طرف بھیجا۔بعد میں دو ہزار یمنی، دو ہزار نجدی بھی جاملے۔راستہ میں بنو اسد کے تین ہزار افراد اور اشعث بن قیس