اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 118

حاب بدر جلد 3 118 حضرت عمر بن خطاب گویا مجھے آنکھوں سے نظر آجائے یعنی پوری باریکی سے ساری تفصیل لکھو اور اپنی تمام کیفیت مجھے وضاحت سے تحریر کرو اور خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس سے امید رکھو اور اپنے کام کے سلسلہ میں اسی پر توکل کرو اور اس بات سے ڈرتے رہو کہ خدا تمہیں ہٹا کر کوئی اور قوم یہ کام سر انجام دینے کے لیے لے آئے۔208 209 یعنی ہمیشہ خدا کا تمہیں خوف رہنا چاہیے۔یہ نہیں کہ تمہارا کوئی ٹھیکیدار بنا دیا۔اگر تم نے یہ ذمہ داری نہ سنبھالی تو خدا تعالیٰ تمہیں اس کام سے ہٹا دے گا اور کوئی اس کام کو سر انجام دینے کے لیے لے آئے گا اور یہ کام تو بہر حال ہونا ہے۔قادسیہ پہنچ کر حضرت سعد نے حضرت عمر کو اپنے لشکر کے قیام اور حدود اربعہ کے متعلق مفصل لکھ کر بھیجا۔حضرت عمرؓ نے جواب تحریر فرمایا کہ اپنی جگہ پر مقیم رہو یہاں تک کہ دشمن خود حملہ آور ہو اور اگر دشمن کو شکست ہو گئی تو مدائن تک پیش قدمی کرنا۔حضرت سعد کے ضمن میں یہ بیان ہو چکا ہے لیکن یہاں حضرت عمرؓ کے حوالے سے بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ حضرت سعد نے دربارِ خلافت کی ہدایت کے مطابق قادسیہ میں ایک ماہ قیام کیا۔تاہم ایرانیوں میں سے کوئی بھی ان کے مقابلے کے لیے نہ آیا۔اس پر اس علاقے کے لوگوں نے ایران کے بادشاہ یزد جرد کے نام خط لکھا کہ اہل عرب کچھ عرصہ سے قادسیہ میں مقیم ہیں اور آپ لوگوں نے ان کے مقابلے کے لیے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے فرات تک کا علاقہ برباد کر دیا ہے ، مویشی وغیرہ لوٹ لیے ہیں۔اگر مدد نہ آئی تو ہم سب کچھ ان کے حوالے کر دیں گے۔اس خط کے بعد یزدجرد نے رستم کو بلایا اور وہ حیلے بہانوں سے جنگ میں شرکت سے گریز کر تا رہا۔رستم بچتارہا اور اپنی جگہ جالینوس کو فوج کا سپہ سالار مقرر کرنے کا مشورہ دیا مگر بادشاہ کے سامنے رستم کی ایک نہ چلی اور اسے لشکر کو ساتھ لے کر جانا پڑا۔حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کو لکھا کہ رستم کے پاس دعوت اسلام دینے کے لیے تم ایسے لوگوں کو بھیجو جو وجیہ ، عقل مند اور بہادر ہوں۔یونہی جنگ نہیں کر دینی۔دشمن کو بھی دعوت اسلام دینی ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس دعوت کو ان کی توہین اور ہماری کامیابی کا ذریعہ بنائے گا۔تم روزانہ مجھے خط لکھتے رہو۔اس کے بعد حضرت سعد نے چودہ نامور اشخاص کو منتخب کر کے دربار ایران میں سفیر بنا کر بھیجا تا کہ وہ شاہ ایران یزدجرد کو دعوت اسلام دیں۔مسلمان گھوڑوں پر سوار تھے۔ان مسلمانوں پر چادریں تھیں اور ان کے ہاتھوں میں کوڑے تھے۔سب سے پہلے حضرت نعمان بن مقرن نے بادشاہ سے بات کی۔پھر مغیرہ بن زرارہ نے۔مغیرہ نے بادشاہ سے یہ کہا کہ تمہارے ساتھ یا تو جنگ ہو گی یا پھر تمہیں جزیہ دینا ہو گا۔اب تمہارے اختیار میں ہے کہ ہماری ماتحتی تسلیم کرتے ہوئے جزیہ دو یا پھر جنگ کے لیے تیار رہو۔تاہم ایک تیسری بات بھی ہے۔اگر اسلام قبول کر لو گے تو ہر چیز سے اپنے آپ کو محفوظ کر لو گے۔اس پر یزدجرد نے کہا کہ اگر قاصدوں کو قتل کرنا ممنوع نہ ہو تا تو میں تم سب کو قتل کر دیتا۔میرے پاس تمہارے لیے