اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 85

اصحاب بدر جلد 2 85 حضرت ابو بکر صدیق پھر ہم رسول اللہ صلی المینیوم کے علاج معالجہ سے فارغ ہو کر طلحہ کے پاس آئے۔وہ ایک گڑھے میں تھے تو دیکھا کہ ان کے جسم پر نیزے تلوار اور تیروں کے کم و بیش ستر زخم تھے اور ان کی انگلی بھی کئی ہوئی تھی تو ہم نے ان کی مرہم پٹی کی۔234 حضرت ابو عبیدہ کے علاوہ حضرت عقبہ بن وھب اور حضرت ابو بکر کے بارے میں بھی روایت میں ملتا ہے کہ انہوں نے یہ کڑیاں نکالیں۔235 لیکن بہر حال پہلی روایت زیادہ بہتر ہے۔کیالوگوں میں ابو قحافہ کا بیٹا ہے یعنی ابو بکر ؟ الله سة غزوہ احد کے دن جب آنحضرت صلی المیہ کم صحابہ کے ساتھ پہاڑ پر چڑھ گئے تو کفار بھی آپ کے آئے۔چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ابو سفیان نے تین بار پکار کر کہا: کیا ان لوگوں میں محمد ہے ) نبی صلی الم نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا: کیا لوگوں میں ابو قحافہ کا بیٹا ہے یعنی ابو بکر ؟ پھر تین بار پوچھا: کیا ان لوگوں میں ابن خطاب یعنی عمر ہے ؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا ہو جو تھے وہ تو مارے گئے۔یہ سن کر حضرت عمر اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے اے اللہ کے دشمن! بخدا تم نے جھوٹ کہا ہے۔جن کا تم نے نام لیا ہے وہ سب م زندہ ہیں۔جو بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لیے بہت کچھ باقی ہے۔236 حضرت مصلح موعود آنحضرت صلی ا ظلم کے زخمی ہو کر بے ہوش ہونے اور اس کے بعد کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلیالی کم کو ہوش آگیا اور صحابہ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دیئے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہو جائیں۔بھاگا ہوالشکر پھر جمع ہونا شروع ہوا اور رسول اللہ صلیالی کم نہیں لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔جب دامن کوہ میں بچا کھچا لشکر کھڑا تھا تو ابو سفیان نے بڑے زور سے آواز دی اور کہا ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار دیا۔رسول اللہ لی مینیم نے ابو سفیان کی بات کا جواب نہ دیا تا ایسانہ ہو دشمن حقیقت حال سے واقف ہو کر حملہ کر دے اور زخمی مسلمان پھر دوبارہ دشمن کے حملہ کا شکار ہو جائیں۔جب اسلامی لشکر سے اس بات کا کوئی جواب نہ ملا تو ابوسفیان کو یقین ہو گیا کہ اس کا خیال درست ہے اور اس نے بڑے زور سے آواز دے کر کہا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا۔رسول اللہ صلی الیم نے ابو بکر کو بھی حکم فرمایا کہ کوئی جواب نہ دیں۔پھر ابوسفیان نے آواز دی ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔تب عمر جو بہت جو شیلے آدمی تھے انہوں نے اس کے جواب میں یہ کہنا چاہا کہ ہم لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارے مقابلہ کے لئے تیار ہیں مگر رسول اللہ صلی علیم نے منع فرمایا کہ مسلمانوں کو تکلیف میں مت ڈالو اور خاموش رہو۔اب کفار کو یقین ہو گیا کہ اسلام کے بانی کو بھی اور ان کے دائیں بائیں بازو کو بھی ہم نے مار دیا ہے۔اِس پر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں نے خوشی سے نعرہ لگا یا اُغْلُ هُبَل - اُعْلُ هُبَل۔ہمارے معزز بت ہبل کی شان بلند ہو کہ اس نے آج اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”وہی رسول کریم صلی ای کمر جو اپنی موت کے اعلان پر، ابو بکر کی موت کے اعلان پر اور عمر کی موت کے اعلان پر خاموشی کی نصیحت فرما رہے تھے تا ایسانہ ہو کہ۔ها الله سل