اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 84

حاب بدر جلد 2 84 حضرت ابو بکر صدیق ایسا آیا کہ آپ کے ارد گرد صرف بارہ آدمی رہ گئے اور ایک وقت ایسا تھا کہ آپ کے ساتھ صرف دو آدمی ہی رہ گئے۔ان جان شاروں میں حضرت ابو بکر، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، ابو دجانہ انصاری، سعد بن معاذ اور طلحہ انصاری کے نام خاص طور پر مذکور ہوئے ہیں۔33 2336 نبی کریم صلی ال نیلم کے دندان مبارک شہید ہونا اور حضرت ابو بکر کی بے تابی غزوہ احد کے دوران جب نبی کریم صلی الی و کم کے دندان مبارک شہید ہوئے تو اس وقت کا جو نقشہ حضرت ابو بکر نے کھینچا ہے اس کے متعلق حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر جب یوم احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے وہ دن سارے کا سارا طلحہ کیا تھا۔پھر اس کی تفصیل بتاتے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ ملک کی طرف واپس لوٹے تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی الله یم کے ساتھ آپ کی حفاظت کرتے ہوئے لڑ رہا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ میر اخیال ہے کہ آپ نے فرمایاوہ آپ کو بچارہا تھا۔حضرت ابو بکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کاش ! طلحہ ہو۔مجھ سے جو موقع رہ گیا سورہ گیا اور میں نے دل میں کہا کہ میری قوم میں سے کوئی شخص ہو تو یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے۔حضرت ابو بکڑ نے اس وقت یہ سوچا۔کہتے ہیں اور میرے اور رسول اللہ صلی الیکم کے درمیان ایک شخص تھا جس کو میں نہیں پہچان سکا حالانکہ میں اس شخص کی نسبت رسول اللہ صلی الی یکم کے زیادہ قریب تھا اور وہ اتنا تیز چل رہا تھا کہ میں اتنا تیز نہ چل سکتا تھا تو دیکھا کہ وہ شخص ابو عبیدہ بن جراح تھے۔پھر میں رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس پہنچا۔آپ کا ر بارگی دانت یعنی سامنے والے دو دانتوں اور نوکیلے دانت کے درمیان والا دانت ٹوٹ چکا تھا اور چہرہ زخمی تھا۔آپ کے رخسار مبارک میں خود کی کڑیاں دھنس چکی تھیں۔رسول اللہ صلی ال یکم نے فرمایا تم دونوں اپنے ساتھی کی مدد کرو۔اس سے آپ کی مراد طلحہ تھی اور ان کا خون بہت بہ رہا تھا۔آنحضرت صلی ہم نے بجائے یہ کہ مجھے دیکھو فرمایا کہ طلحہ کو جاکے دیکھو۔ہم نے ان کو رہنے دیا اور میں آگے بڑھا، تا خود کی کڑیوں کو رسول اللہ صلی عوام کے چہرہ مبارک سے نکال سکوں۔اس پر حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ میں آپ کو اپنے حق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اسے میرے لیے چھوڑ دیں۔پس میں نے ان کو چھوڑ دیا اور ابو عبیدہ نے ناپسند کیا کہ ان کڑیوں کو ہاتھ سے کھینچ کر نکالیں اور اس سے رسول اللہ صلی علی یم کو تکلیف پہنچے تو انہوں نے ان کڑیوں کو اپنے منہ سے نکالنے کی کوشش کی اور ایک کڑی کو نکالا تو کڑی کے ساتھ ان کا اپنا سامنے کا دانت بھی ٹوٹ گیا۔پھر دوسری کڑی نکالنے کے لیے میں آگے بڑھا کہ میں بھی ایسا ہی کروں جیسا انہوں نے کیا ہے۔حضرت ابو بکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں بھی اسی طرح دوسری کڑی نکالنے کی کوشش کرتا ہوں تو حضرت ابو عبیدہ نے پھر کہا کہ میں آپ کو اپنے حق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اسے میرے لیے چھوڑ دیں۔انہوں نے حضرت ابو بکر کو کہا تو پھر حضرت ابو بکر پیچھے ہٹ گئے تو انہوں نے پھر ویسا ہی کیا جیسا پہلے کیا تھا تو ابو عبیدہ کا سامنے کا دوسرا دانت بھی کڑی کے ساتھ ٹوٹ گیا۔پس ابوعبیدہ سامنے کے ٹوٹے ہوئے دانتوں والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔