اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 86

صحاب بدر جلد 2 86 حضرت ابو بکر صدیق زخمی مسلمانوں پر پھر کفار کا لشکر لوٹ کر حملہ کر دے اور مٹھی بھر مسلمان اس کے ہاتھوں شہید ہو جائیں اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں مارا گیا تو آپ کی روح بے تاب ہو گئی اور آپ نے نہایت جوش سے صحابہ کی طرف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے کہا یارسول اللہ ! ہم کیا کہیں ؟ فرمایا کہو الله أغلى واجَلُ اللهُ أَعْلَى وَاجَلُ۔تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہبل کی شان بلند ہوئی“ یہ جھوٹ ہے تمہارا۔” اللہ وحدہ لاشریک ہی معزز ہے اور اس کی شان بالا ہے اور اس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچادی۔اس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفار کے لشکر پر اتنا گہر اپڑا کہ باوجود اس کے کہ ان کی امید میں اس جواب سے خاک میں مل گئیں اور باوجود اس کے کہ ان کے سامنے مٹھی بھر زخمی مسلمان کھڑے ہوئے تھے جن پر حملہ کر کے ان کو مار دینا مادی قوانین کے لحاظ سے بالکل ممکن تھا وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے اور جس قدر فتح ان کو نصیب ہوئی تھی اسی کی خوشیاں مناتے ہوئے مکہ کو واپس چلے گئے۔237" 238 اے میرے بھانجے ! تیرے آباء زبیر اور حضرت ابو بکر بھی انہی لوگوں میں سے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آیت الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمُ (آل عمران : 173) صحابہ سے متعلق ہے۔کہتی ہیں کہ یہ صحابہ سے متعلق ہے یعنی جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانی بعد اس کے کہ ان کو زخم پہنچے ان میں جنہوں نے نیک کام کیسے اور تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہو گا۔حضرت عائشہ نے عروہ سے کہا اے میرے بھانجے ! تیرے آباء زبیر اور حضرت ابو بکر بھی انہی لوگوں میں سے تھے کہ جب جنگ احد میں رسول اللہ صل ا لم زخمی ہوئے اور مشرکین پلٹ گئے تو آپ کو اندیشہ ہوا کہیں وہ پھر نہ لوٹ آئیں۔آپؐ نے فرمایا ان کا تعاقب کون کرے گا؟ تو ان میں سے ستر آدمیوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔عروہ کہتے تھے ان میں حضرت ابو بکر اور حضرت زبیر بھی تھے۔اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں یہ ایک عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش کو اس موقع پر مسلمانوں کے خلاف غلبہ حاصل ہو اتھا اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے وہ اگر چاہتے تو اپنی اس فتح سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور مدینہ پر حملہ آور ہونے کا راستہ تو بہر حال ان کے لیے کھلا تھا مگر خدائی تصرف کچھ ایسا ہوا کہ قریش کے دل باوجود اس فتح کے اندر ہی اندر مرعوب تھے اور انہوں نے اسی غلبہ کو غنیمت جانتے ہوئے جو احد کے میدان میں ان کو حاصل ہوا تھا مکہ کو جلدی جلدی لوٹ جانا ہی مناسب سمجھا مگر بایں ہمہ آنحضرت صلی علیہ ہم نے مزید احتیاط کے خیال سے فوراستر صحابہ کی ایک جماعت جس میں حضرت ابو بکر اور حضرت زبیر بھی شامل تھے تیار کر کے لشکر قریش کے پیچھے روانہ کر دی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔عام مورخین یوں بیان کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت علی بعض روایات کے مطابق سعد بن ابی وقاص کو ان کے پیچھے بھجوایا اور ان سے فرمایا کہ ان کا پتہ لاؤ کہ لشکر قریش مدینہ پر حملہ کرنے کی نیت تو نہیں رکھتا؟ آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر قریش اونٹوں پر سوار