اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 455
اصحاب بدر جلد 2 455 حضرت ابو بکر صدیق طرف سے نائب السلطنت مقرر کیا گیا ہے اور اس کی وفاداری، فراست اور پختہ کاری پر سلطنت نے اعتماد کیا ہے تب ہی تو زمام سلطنت اس کے ہاتھ میں دی ہے۔پھر اس کی صائب تدبیری اور معاملہ فہمی کو پس پشت ڈال کر ایک چوکیدار کے انتخاب اور رائے کو صحیح سمجھ لینا نا مناسب امر ہے۔یہی حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتخاب کا تھا۔اس وقت آپ کے پاس 70-80 صحابہ موجود تھے جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے مگر ان سب میں سے آپ نے اپنی رفاقت کے لئے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہی انتخاب کیا۔اس میں ستر کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کا فہم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کشف اور الہام سے بتا دیا کہ اس کام کے لئے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔ابو بکر اس ساعت عسر میں آپ کے ساتھ ہوئے۔یہ وقت خطر ناک آزمائش کا تھا۔“ فرماتے ہیں۔۔۔غرض حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کو غار ثور کہتے ہیں آپ جا چھپے۔شریر کفار جو آپ کی ایذارسانی کے لئے منصوبے کر چکے تھے تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل سر پر ہی آپہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا بھی نیچے نگاہ کی توہ دیکھ لے گا اور ہم پکڑے جائیں گے۔اس وقت آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (التو به 40) کچھ غم نہ کھاؤ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اس لفظ پر غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق ہو اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔چنانچہ فرمایا۔لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا مَعَنَا میں آپ دونو شریک ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ تیرے اور میرے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک پلہ پر آنحضرت کو اور دوسرے پر حضرت صدیق تصور کھا ہے۔“ ترازو کے دو پلڑے ہوتے ہیں ایک پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا۔دوسرے پر حضرت ابو بکر صدیق اور کھا۔” اس وقت دونو ابتلا میں ہیں کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے یا تو اسلام کی بنیاد پڑنے والی ہے یا خاتمہ ہو جانے والا ہے۔دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہے۔؟ ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشان پا یہاں تک ہی آکر ختم ہو جاتا ہے۔۔۔لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گذر اور دخل کیسے ہو گا ؟ مکڑی نے جالا تنا ہوا۔کبوتر نے انڈے دیئے ہوئے ہیں۔اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپ بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی ہیں کہ وہ اور طرح بڑھتے آئے ہیں لیکن آپ کے کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ اپنے رفیق صادق صدیق کو فرماتے ہیں لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔اشارہ سے کام نہیں چلتا۔باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس امر کی پرواہ نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن