اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 454

حاب بدر جلد 2 454 حضرت ابو بکر صدیق آپ کو بہترین جزا عطا کرے اور متقین کے ائمہ میں آپ کا حشر ہو اور اللہ اپنے ان محبوبوں کے صدقے ہم پر رحم فرمائے۔اے نعمتوں اور عنایات کے مالک خدا! میری دعا قبول فرما۔تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور تُور حم کرنے والوں میں سے سب سے بہتر ہے۔1047 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نمونہ ہمیشہ اپنے سامنے رکھو پھر آپ فرماتے ہیں: ”حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نمونہ ہمیشہ اپنے سامنے رکھو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زمانہ پر غور کرو کہ جب دشمن قریش ہر طرف سے شرارت پر تلے ہوئے تھے اور انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ کیا۔وہ زمانہ بڑا ابتلا کا زمانہ تھا۔اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو حق رفاقت ادا کیا اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔یہ طاقت اور قوت بجز صدق ایمان کے ہر گز نہیں آسکتی۔آج جس قدر تم لوگ بیٹھے ہوئے ہو۔اپنی اپنی جگہ سوچو کہ اگر اس قسم کا کوئی ابتلا ہم پر آجائے تو کتنے ہیں جو ساتھ دینے کو تیار ہوں۔مثلاً گورنمنٹ کی طرف سے ہی یہ تفتیش شروع ہو جائے کہ کس کس شخص نے اس شخص کی بیعت کی ہے تو کتنے ہوں گے جو دلیری کے ساتھ یہ کہہ دیں کہ ہم مبائعین میں داخل ہیں۔میں جانتا ہوں کہ یہ بات سن کر بعض لوگوں کے ہاتھ پاؤں سُن ہو جائیں گے اور ان کو فوراً اپنی جائدادوں اور رشتہ داروں کا خیال آجائے گا کہ ان کو چھوڑنا پڑے گا۔“ آپ فرماتے ہیں کہ ” مشکلات ہی کے وقت ساتھ دینا ہمیشہ کامل الایمان لوگوں کا کام ہوتا ہے۔اس لئے جب تک انسان عملی طور پر ایمان کو اپنے اندر داخل نہ کرے محض قول سے کچھ نہیں بنتا اور بہانہ سازی اس وقت تک دور ہی نہیں ہوتی۔عملی طور پر جب مصیبت کا وقت ہو تو اس وقت ثابت قدم نکلنے والے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔حضرت مسیح ناصرٹی کے حواری اس آخری گھڑی میں جو ان کی مصیبت کی گھڑی تھی انہیں تنہا چھوڑ کر بھاگ نکلے اور بعض نے تو منہ کے سامنے ہی آپ پر لعنت کر دی۔“ پھر آپ فرماتے ہیں۔غرض حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صدق اس مصیبت کے وقت ظاہر ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا۔گو بعض کفار کی رائے اخراج کی بھی تھی مگر اصل مقصد اور کثرت رائے آپ کے قتل پر تھی۔ایسی حالت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے صدق اور وفا کا وہ نمونہ دکھلایا جو ابد الآباد تک کے لئے نمونہ رہے گا۔اس مصیبت کی گھڑی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت اور اعلیٰ وفاداری کی ایک زبر دست دلیل ہے۔دیکھو! اگر وائسرائے ہند کسی شخص کو کسی خاص کام کے لئے انتخاب کرلے تو اس کی رائے صائب اور بہتر ہو گی یا ایک چوکیدار کی؟“ وائسرائے اگر انتخاب کرے تو اس کی رائے صائب ہو گی یا ایک عام چوکیدار کی۔فرماتے ہیں کہ ”ماننا پڑے گا کہ وائسرائے کا انتخاب بہر حال موزوں اور مناسب ہو گا کیونکہ جس حال میں کہ وہ سلطنت کی وو