اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 456

تاب بدر جلد 2 456 حضرت ابو بکر صدیق لیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے۔۔۔ابو بکر صدیق کی شجاعت کے لئے ایک دوسرا گواہ اس واقعہ کے سوا اور بھی ہے۔“ فرماتے ہیں: ”جب آنحضرت نے رحلت فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار کھینچ کر نکلے کہ اگر کوئی کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا ہے تو میں اسے قتل کر دوں گا۔ایسی حالت میں حضرت ابو بکر صدیق نے بڑی جرات اور دلیری سے کلام کیا اور کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا۔مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران:145) یعنی محمد بھی اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہی ہیں اور آپ سے پہلے جس قدر نبی ہو گزرے ہیں۔سب نے وفات پائی۔اس پر وہ جوش فرو ہوا۔اس کے بعد بادیہ نشین اعراب مرتد ہو گئے۔ایسے نازک وقت کی حالت کو حضرت عائشہ صدیقہ نے یوں ظاہر فرمایا ہے کہ پیغمبر خدا صلعم کا انتقال ہو چکا ہے اور بعض جھوٹے مدعی نبوت کے پیدا ہو گئے ہیں اور بعضوں نے نمازیں چھوڑ دیں اور رنگ بدل گیا ہے۔ایسی حالت میں اور اس مصیبت میں میراباپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ اور جانشین ہوا۔میرے باپ پر ایسے ایسے غم آئے کہ اگر پہاڑوں پر آتے تو وہ بھی نابود ہو جاتے۔1048❝ اب غور کرو کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑنے پر بھی ہمت اور حوصلہ کو نہ چھوڑنا یہ کسی معمولی انسان کا کام نہیں۔یہ استقامت صدق ہی کو چاہتی تھی اور صدیق نے ہی دکھائی۔ممکن نہ تھا کہ کوئی دوسرا اس خطرہ کو سنبھال سکتا۔تمام صحابہ اس وقت موجود تھے۔کسی نے نہ کہا کہ میر احق ہے۔وہ دیکھتے تھے کہ آگ لگ چکی ہے۔اس آگ میں کون پڑے۔حضرت عمرؓ نے اس حالت میں ہاتھ بڑھا کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر سب نے یکے بعد دیگرے بیعت کر لی۔یہ ان کا صدق ہی تھا کہ اس فتنہ کو فرو کیا اور ان موذیوں کو ہلاک کیا۔مسیلمہ کے ساتھ ایک لاکھ آدمی تھا اور اس کے مسائل اباحت کے مسائل تھے۔لوگ اس کی اباحتی باتوں کو دیکھ دیکھ کر اس کے مذہب میں شامل ہوتے جاتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی معیت کا ثبوت دیا اور ساری مشکلات کو آسان کر دیا۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سارنگ پیدا نہ ہو۔وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم صدیق اکبر وہ مرد خدا ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختصاص کے کئی لباس عطا کئے گئے۔“ بہت ساری خصوصیتیں عطا کی گئیں۔اور اللہ نے ان کے لئے یہ گواہی دی کہ وہ خاص بر گزیدہ لوگوں میں سے ہیں اور اپنی ذات کی معیت کو آپ کی طرف منسوب کیا اور آپ کی 1049❝