اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 453 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 453

صحاب بدر جلد 2 453 حضرت ابو بکر صدیق اماموں کا امام اور دین اور امت کا چراغ پایا تب میں نے آپ کی رکاب کو مضبوطی سے تھام لیا اور آپ کی امان میں پناہ لی اور صالحین سے محبت کر کے اپنے رب کی رحمت حاصل کرنی چاہی۔پس اس خدائے رحیم نے مجھ پر رحم فرمایا۔پناہ دی۔میری تائید فرمائی اور میری تربیت کی اور مجھے معزز لوگوں میں سے بنایا اور اپنی رحمت خاص سے اس نے مجھے اس صدی کا مجدد اور مسیح موعود بنایا اور مجھے سہمین میں سے بنایا۔مجھ سے غم کو ڈور کیا اور مجھے وہ کچھ عطا کیا جو دنیا جہان میں کسی اور کو عطا نہیں کیا اور یہ سب اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُمّی اور ان مقربین کی محبت کے طفیل حاصل ہوا ہے۔اے اللہ ! تو اپنے افضل الرسل اور اپنے خاتم الانبیاء اور دنیا کے تمام انسانوں سے بہتر وجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیج۔بخدا حضرت ابو بکر حرمین میں بھی اور دونوں قبروں میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔اس سے میری مراد ایک تو غار کی قبر ہے جس میں آپ بحالت اضطرار وفات یافتہ شخص کی طرح پناہ گزین ہوئے اور پھر دوسری وہ قبر جو مدینہ میں خیر البریہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔اس لیے صدیق اکبر کے مقام کو سمجھ اگر تو گہری سمجھ کا مالک ہے۔اللہ نے آپ کی اور آپ کی خلافت کی قرآن میں تو صیف فرمائی اور بہترین بیان سے آپ کی ستائش کی ہے۔فرمایا: بلاشبہ آپ اللہ کے مقبول اور پسندیدہ ہیں اور آپ کی قدر و منزلت کی تحقیر کسی سر پھرے شخص کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔آپ کی خلافت کے ذریعہ اسلام سے تمام خطرات دور ہو گئے۔فرماتے ہیں : اور آپ کی رافت سے مسلمانوں کی خوش بختی پایہ تکمیل کو پہنچی۔اگر خیر الانام کا صدیق، صدیق اکبر نہ ہو تا تو قریب تھا کہ اسلام کاستون منہدم ہو جاتا۔آپ نے اسلام کو ایک ناتواں اور بیکس اور نحیف و نزار ماؤف شخص کی طرح پایا تو آپ ماہروں کی طرح اس کی رونق اور شادابی کو دوبارہ واپس لانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک لئے ہوئے شخص کی طرح اپنی گم شدہ چیز کی تلاش میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ اسلام اپنے مناسب قد، اپنے ملائم رخسار، اپنی شادابی جمال اور اپنے صاف پانی کی مٹھاس کی طرف لوٹ آیا اور یہ سب کچھ اس بندہ امین کے اخلاص کی وجہ سے ہوا۔آپ نے نفس کو مٹی میں ملایا اور حالت کو بدلا اور رحمان خدا کی خوشنودی کے سوا کسی صلہ کے طالب نہ ہوئے اور اسی حالت میں شب و روز آپ پر آئے۔آپ بوسیدہ ہڈیوں میں جان ڈالنے والے، آفتوں کو دور کرنے والے اور صحرا کے میٹھے پھل والے درختوں کو بچانے والے تھے۔خالص نصرت الہی آپ کے حصہ میں آئی اور یہ اللہ کے فضل اور رحم کی وجہ سے تھا۔اور اب ہم خدائے واحد پر توکل کرتے ہوئے کسی قدر شواہد کا ذکر کرتے ہیں تاکہ تجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ کیونکر آپ نے تند و تیز آندھیوں والے فتنوں اور جھلسانے والے شعلوں کے مصائب کو ختم کیا اور کس طرح آپ نے جنگ میں بڑے بڑے ماہر نیزہ بازوں اور شمشیر زنوں کو ہلاک کر دیا۔اس طرح آپ کی باطنی کیفیت آپ کے کارناموں سے ظاہر ہو گئی اور آپ کے اعمال نے آپ کے اوصاف حمیدہ کی حقیقت پر گواہی دی۔اللہ