اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 437 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 437

محاب بدر جلد 2 437 حضرت ابو بکر صدیق تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اور میں اس وقت غار میں تھا ( یعنی حضرت ابو بکر نے کہا جبکہ وہ غار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ) کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کے نیچے نگاہ ڈالے ( یعنی کافر جو باہر کھڑے تھے اگر نیچے دیکھے ) تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر آپ کا کیا خیال ہے ان دو شخصوں کی نسبت جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔1018 بخاری کی روایت ہے یہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : بھی ہے کہ ( حضرت ابو بکر صدیق کے محاسن اور خصوصی فضائل میں سے ایک خاص بات مخص" ، سفر ہجرت میں آپ کو رفاقت کے لئے خاص کیا گیا اور مخلوق میں سے سب سے بہترین شخص “ یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مشکلات میں آپ ان کے شریک تھے اور آپ مصائب کے آغاز سے ہی حضور کے خاص انیس بنائے گئے تھے “ یعنی خاص دوست بنائے گئے تھے ” تاکہ محبوبِ خدا کے ساتھ آپ کا خاص تعلق ثابت ہو اور اس میں بھید یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ خوب معلوم تھا کہ صدیق اکبر صحابہ میں سے زیادہ شجاع، متقی اور ان سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور مردِ میدان تھے اور یہ کہ سید الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا تھے۔آپ یعنی حضرت ابو بکر ”ابتدا سے ہی حضور کی مالی مدد کرتے اور آپؐ کے اہم امور کا خیال فرماتے تھے۔سو اللہ نے تکلیف دہ وقت اور مشکل حالات میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آپ کے ذریعہ تسلی فرمائی اور الصدیق کے نام اور نبی ثقلین کے قرب سے مخصوص فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثانِيَ اثْنَيْنِ کی خلعت فاخرہ سے فیضیاب فرمایا اور اپنے خاص الخاص بندوں میں سے بنایا۔غیر مسلم مصنفین کا حضرت ابو بکر کو خراج عقیدت 1019❝ الجیریا کا بیسویں صدی کا ایک مورخ ہے آندرے سرویئر (André Servicer) وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ ابو بکر کا مزاج سادہ تھا۔غیر متوقع عروج کے باوجود انہوں نے غربت والی زندگی بسر کی۔جب انہوں نے وفات پائی تو انہوں نے اپنے پیچھے ایک بوسیدہ لباس، ایک غلام اور ایک اونٹ ترکہ میں چھوڑا۔وہ اہل مدینہ کے دلوں پر سچی حکومت کرنے والے تھے۔ان میں ایک بہت بڑی خوبی تھی اور وہ تھی قوت و توانائی۔لکھتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس خوبی کے ذریعہ غلبہ حاصل کیا تھا اور جو آپ کے دشمنوں میں کمیاب تھی وہ خوبی حضرت ابو بکر میں پائی جاتی تھی اور وہ کیا خوبی تھی، غیر متزلزل ایمان اور مضبوط یقین اور ابو بکر صحیح جگہ پر صحیح آدمی تھا۔پھر لکھتا ہے کہ اس معمر اور نیک سیرت انسان نے اپنے موقف کو اختیار کیا جبکہ ہر طرف بغاوت برپا تھی۔آپ نے اپنے مومنانہ اور غیر متزلزل عزم سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کو از سر نو شروع کیا۔1020