اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 436
محاب بدر جلد 2 436 حضرت ابو بکر صدیق حضرت عائذ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال چند لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوسفیان آئے۔اس پر اُن لوگوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اللہ کی تلواروں نے اللہ کے دشمن کی گردن کے ساتھ ابھی تک اپنا حساب چکتا نہیں کیا۔یعنی صحیح طرح جو بدلہ لینا چاہیے تھا وہ نہیں لیا۔راوی کہتے ہیں یہ سن کر حضرت ابو بکر نے کہا: کیا تم قریش کے بڑے سر داروں کے بارے میں اس طرح کہہ رہے ہو ؟ ابو سفیان بھی قریش کے سرداروں میں سے ہیں۔تم کہہ رہے ہو کہ ان سے ہم نے بدلہ نہیں لیا۔پھر حضرت ابو بکر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا کہ اے ابو بکر !شاید تم نے ان لوگوں یعنی سلمان، صہیب اور بلال کو ناراض کر دیا۔اگر تم نے انہیں ناراض کیا تو سمجھ لو کہ تم نے اپنے رب کو ناراض کیا۔اس پر حضرت ابو بکر ان تینوں حضرات کے پاس آئے اور کہا: پیارے بھائیو ! کیا میں نے آپ کو ناراض کر دیا؟ بڑے معذرت خواہانہ انداز میں یہ کہا۔تو انہوں نے کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے اے ہمارے بھائی! اللہ آپ کو معاف کرے۔1015 بہر حال یہاں یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ حضرت ابو بکر کی عاجزی کس قدر تھی۔ایسے لوگ جن کو آپ نے غلامی سے آزاد بھی کروایا ہوا ہے اس کے باوجود ان کے پاس آتے ہیں اور ان سے معافی مانگتے ہیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اطاعت کا کیا معیار تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی کہ تم نے ناراض کر دیا۔یہ نہیں فرمایا کہ جا کے معافی مانگو لیکن آپ فورا خود گئے اور اُن سے معافی مانگی۔یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے شرح میں لکھا گیا ہے واقعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار کی جنگ بندی کے معاہدہ کے بعد کا ہے جب ابوسفیان ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔اس وقت مسلمانوں کا خیال تھا کہ کیوں نہ ہم نے ان کو پہلے ہی مار دیا ہوتا۔1016 حفظ قرآن کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی تاریخ کے حوالے سے باتیں فرمائی ہیں۔فرماتے ہیں کہ ”ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ میں سے مندرجہ ذیل کا حفظ ثابت ہے۔ابو بکر عمر عثمان علی۔طلحہ۔سعد ابن مسعودؓ۔حذیفہ۔سالم۔ابوہریرہ عبد اللہ بن ائب عبد اللہ بن عمرؓ عبد اللہ بن عباس۔اور عورتوں میں سے عائشہ۔حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ۔ان میں سے اکثر نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا اور بعض نے آپ کی وفات کے بعد حفظ کیا۔1017 ثانی اثنین کے بارے میں حضرت ابو بکر کی اپنی روایت یوں ہے۔حضرت انس نے حضرت ابو بکر سے روایت کی۔وہ کہتے