اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 438

محاب بدر جلد 2 438 حضرت ابو بکر صدیق پھر ایک برطانوی مورخ ہے جے جے سانڈرز (J۔J۔Saunders) وہ لکھتا ہے کہ: پہلے خلیفہ کی یاد مسلمانوں میں ہمیشہ ایک ایسے انسان کے طور پر جاگزیں رہی ہے جو کامل وفادار ، لطف و کرم کا پیکر تھا اور کوئی سخت سے سخت طوفان بھی ان کی مستقل متحمل مزاجی کو ہلا نہ سکا۔ان کا عہدِ حکومت اگر چہ مختصر تھا لیکن اس میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں وہ بہت عظیم تھیں۔ان کی طبیعت کے ٹھہر اؤ اور ثبات و استقلال نے ارتداد پر قابو پا کر عرب قوم کو دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل کر دیا اور ان کے تسخیر شام کے مصمم ارادے نے عرب دنیا کی سلطنت کی بنیا درکھ دی۔پھر ایک اور انگریز مصنف ہے ایچ جی ویلز (H۔G۔Wells) یہ کہتا ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی سلطنت کی اصل بنیا د رکھنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ابو بکر تھے جو آپ کے دوست اور مدد گار تھے۔خیر یہ تو مبالغہ کر رہا ہے یہاں۔بہر حال یہ لکھ رہا ہے۔1021 پھر آگے لکھتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متزلزل کردار کے باوجود ابتدائی اسلام کا دماغ اور تصور تھے۔( العیاذ باللہ ، نعوذ باللہ) تو ابو بکر اس کا شعور اور عزم تھے۔جب کبھی محمد متزلزل ہوتے (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ابو بکر ان کی ڈھارس بندھاتے تھے۔بہر حال یہ باتیں تو اس کی فضول گوئی اور لغو باتیں ہیں جس میں کوئی سچائی نہیں ہے لیکن یہ آگے جو صحیح بات لکھ رہا ہے وہ یہ لکھ رہا ہے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ابو بکر آپ کے خلیفہ اور جانشین بنے اور پہاڑوں کو بھی ہلا دینے والے ایمان کے ساتھ انہوں نے بڑی سادگی اور سمجھداری سے تین یا چار ہزار عربوں پر مشتمل چھوٹی چھوٹی سی فوج کے ساتھ ساری دنیا کو اللہ کے تابع فرمان بنانے کا کام شروع کیا۔122 بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ مصنف نے حضرت ابو بکر کی بعض خوبیوں کا ذکر کیا ہے جو بلاشبہ اُن میں موجود تھیں لیکن چونکہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلیٰ و ارفع مقام نبوت کی حقیقت کا ادراک اور شعور نہیں رکھتے تھے اس لیے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر و غیرہ کی تعریف میں اس حد تک مبالغہ آمیزی سے کام لے جاتے ہیں کہ جو کسی بھی طور پر درست نہیں ہو سکتا حالانکہ حضرت عمرؓ ہوں یا حضرت ابو بکر یہ سب اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار اور کامل متبع اور عاشق تھے۔یہ لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شعور نہ تھے بلکہ خادمانہ رنگ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہاتھ اور پاؤں تھے۔ایسا ہی دین اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ کا نام یا کام نہ تھا جس طرح اس نے یہ لکھا ہے کہ اسلام جو تھا اس کا دماغ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے بلکہ سراسر خدائی راہنمائی اور وحی الہی کے نتیجہ میں ایک کامل اور مکمل شریعت اور دین کا نام اسلام ہے اور نہ ہی کسی بھی گھبراہٹ یا تزلزل کے موقع پر حضرت ابو بکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھارس بنے بلکہ اول تو اس المجمع الناس،