اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 435
اصحاب بدر جلد 2 435 حضرت ابو بکر صدیق ان کے لئے تو یہی لکھا ہے کہ سیفوں (تلواروں) کے نیچے بہشت ہے۔، 1009 یعنی تلواروں کے نیچے بہشت ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ”صحابہ کی حالت دیکھو ! جب امتحان کا وقت آیا تو جو کچھ کسی کے پاس تھا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حضرت ابو بکر صدیق سب سے اول کمبل پہن کر آگئے۔پھر اس کمبل کی جزا بھی اللہ تعالیٰ نے کیا دی یعنی کہ سب کچھ لے آئے اور صرف ایک لمبل اوڑھ لیا اپنے اوپر۔اللہ تعالیٰ نے کیا جزا دی کہ سب سے اول خلیفہ وہی ہوئے۔فرمایا ” غرض یہ ہے کہ اصلی خوبی یعنی سب سے اول کام کرنا۔کہ ”خیر اور روحانی لذت سے بہرہ ور ہونے کے لئے وہی مال کام آسکتا ہے۔جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے۔1010 ان کا لوگوں میں سب سے بہتر اور محبوب ہونے کے بارے میں لکھا ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگوں میں سے ایک کو دوسرے سے بہتر قرار دیا کرتے تھے۔مقابلہ ہو تا تھا کہ کون بہتر ہے دوسرے سے۔اور اس وقت سمجھتے تھے کہ حضرت ابو بکر شسب سے بہتر ہیں، پھر حضرت عمر بن خطاب، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم۔1011 حضرت جابر بن عبد اللہ نے بیان کیا: حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ اے لوگوں میں سب سے بہتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ! حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کی تعریف کی تو حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ اگر تم ایسا کہتے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورج طلوع نہیں ہو ا کسی آدمی پر جو عمر سے بہتر ہو۔1012 یعنی آپ نے فوراً اپنی عاجزی کا اظہار فرمایا کہ مجھے کہتے ہو تم بہتر ہو حالا نکہ میں نے تو تمہارے بارے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا ہے کہ تم بہتر ہو۔عبد اللہ بن شفیق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھا تو انہوں نے فرمایا حضرت ابو بکر میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا حضرت عمرؓ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا پھر حضرت ย ابو عبیدہ بن جراح۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا پھر کون؟ پھر آپ خاموش رہیں۔1013 محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں اس شخص کے بارے میں گمان نہیں کر تاجو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی تنقیص بیان کرتا یعنی ان میں نقص نکالتا ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو۔1014 اور پھر یہ بھی ساتھ دعویٰ ہو کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ ہمیں نقص نکالنے کے بعد یہ دعویٰ غلط ہے کہ پھر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے کیونکہ یہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیارے تھے۔