اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 385

حاب بدر جلد 2 385 حضرت ابو بکر صدیق 898 شریک کر لو۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے شریک کیا۔حضرت عقبہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر کو دیکھا انہوں نے حضرت حسن کو اٹھایا اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میرا باپ تجھ پر قربان۔یہ تو نبی کی شکل و شباہت ہے، علی کی شکل و شباہت نہیں ہے اور حضرت علی یہ سن کر ہنس رہے تھے۔99 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب کی بیٹی حضرت حفصہ حضرت خنیس بن حذافہ سہمی کے فوت ہونے پر بیوہ ہو گئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔مدینہ میں انہوں نے وفات پائی تھی تو حضرت عمر بن خطاب کہتے تھے میں عثمان بن عفان سے ملا، ان کے پاس حفصہ کا ذکر کیا اور کہا اگر آپ چاہیں تو حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں۔انہوں نے کہا میں اس معاملے پر غور کروں گا چنانچہ میں کئی روز تک ٹھہر ا رہا۔پھر عثمان نے کہا مجھے یہی مناسب معلوم ہوا ہے کہ میں ان دنوں شادی نہ کروں۔حضرت عمرہ کہتے تھے پھر میں حضرت ابو بکر سے ملا اور کہا اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کیے دیتا ہوں۔حضرت ابو بکر خاموش ہو گئے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ عثمان کی نسبت میں ان سے زیادہ رنجیدہ خاطر ہوا۔پھر میں کچھ راتیں ٹھہرا رہا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسہ نے حفصہ سے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کر دیا۔پھر حضرت ابو بکر مجھ سے ملے اور کہا شاید آپ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں۔جب آپ نے حفصہ کا ذکر کیا اور میں نے کچھ جواب نہ دیا۔میں نے کہا کہ ہاں اس طرح ہی ہے۔تو انہوں نے کہا کہ دراصل جو بات آپ نے پیش کی تھی اس کی نسبت آپ کو جواب دینے سے نہیں روکا تھا مگر اس بات نے کہ مجھے علم ہو چکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں اور میں ایسا نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشا ظاہر کرتا یعنی آپ کو بتاتا کہ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا ہے۔اس لیے میں چپ ہو گیا یا انکار کر دیا اور آگے کہتے ہیں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس رشتہ کو چھوڑ دیتے تو میں ضرور آپ کی بیٹی کا رشتہ قبول کر لیتا۔200 حضرت علی کا حضرت ابو بکر کو خراج عقیدت پیش کرنا اس کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جنہوں نے حضرت عمر بن خطاب کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا کی جبکہ انہیں تختے پر رکھ دیا گیا۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص نے میرے پیچھے سے آکے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھ دی۔کہنے لگا اللہ تم پر رحم کرے۔مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں بھی ہمارے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی دفن کرے گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بہت سنا تھا کہ میں اور ابو بکر و عمر فلاں جگہ تھے اور میں نے اور ابو بکر و عمر نے یہ کیا۔میں اور ابو بکر و عمر چلے گئے۔اس لیے میں یہ امید رکھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی ان دونوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔میں