اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 384
محاب بدر جلد 2 384 حضرت ابو بکر صدیق راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر کو دیکھا آپ بھی وہاں تھے ، کھانا کھانے والوں میں شامل۔آپؐ سخت بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حلق میں انگلیاں ڈال کر اس کو نکال رہے 894 یعنی قے کر کے کھانا نکال رہے تھے ، ایسا کھانا جو شرک کا ذریعہ بنا ہو وہ میں نہیں کھا سکتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان فرمایا کہ حضرت ابو بکر کا ایک غلام تھا وہ انہیں کمائی لا کر دیتا تھا اور حضرت ابو بکر اس کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔ایک دن وہ کوئی چیز لایا حضرت ابو بکر نے اس 896 895 سے کھایا۔غلام نے ان سے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔حضرت ابو بکر نے پوچھا کیا ہے ؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لیے کہانت کی تھی اور میں کہانت کا علم اچھی طرح نہیں جانتا سوائے اس کے کہ میں نے اس کو دھوکا دیا۔وہ مجھ کو ملا تو اس نے مجھے اس کے بدلے کچھ دیا تھا۔سو یہ وہ ہے جس سے آپ نے کھایا ہے۔تحفہ لے آیا تھایا پکا کے کبھی کبھی چیز لے آیا کرتا تھا۔تو حضرت ابو بکڑ نے اپنا ہاتھ گلے میں داخل کیا اور جو کچھ پیٹ میں تھا سب قے کر دیا۔انہوں نے کہا ایسا حرام کھانا میں نہیں کھا سکتا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو غرور سے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلا تو اللہ روز قیامت اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ میرے کپڑے کی ایک طرف ڈھیلی رہتی ہے سوائے اس کے کہ میں اس کا خاص خیال رکھوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو غرور سے ایسا نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کا تہہ بند نیچے کو ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جائیں گے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ ان کا تہ بند بھی ویسا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو ان میں سے نہیں ہے۔غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظ مراتب ضروری شئے ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اور فرمانبر داری اور عشق رسول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غیرت کا ذکر ہے۔ایک دن حضرت عائشہ گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابالیعنی حضرت ابو بکر تشریف لائے۔یہ حالت دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کے لیے آگے بڑھے کہ تم خدا کے رسول کے آگے اس طرح بولتی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے ہی باپ بیٹی کے درمیان حائل ہو گئے اور حضرت ابو بکر کی متوقع سزا سے حضرت عائشہ کو بچالیا۔جب حضرت ابو بکر چلے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے ازراہ مذاق فرمایا۔دیکھا! آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا۔کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو بکر دوبارہ تشریف لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ ہنسی خوشی باتیں کر رہی تھیں۔حضرت ابو بکر کہنے لگے کہ دیکھو تم نے اپنی لڑائی میں تو مجھے شریک کیا تھا اب خوشی میں بھی 8976