اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 386

صحاب بدر جلد 2 386 حضرت ابو بکر صدیق 901 نے جو مڑ کر دیکھا تو حضرت علی بن ابی طالب تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آیت الذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمُ (آل عمران :173) کہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور رسول کو لبیک کہا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے ان میں سے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے احسان کیا اور تقویٰ اختیار کیا بہت بڑا اجر ہے۔اس کے بارے میں انہوں نے عروہ سے فرمایا کہ اے میری بہن کے بیٹے ! تیرے والد حضرت زبیر اور حضرت ابو بکر ان میں سے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کے دن جو تکلیف پہنچی وہ پہنچی اور مشرکین چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ واپس آئیں گے۔آپؐ نے فرمایا ان کے پیچھے کون جائے گا تو اُن میں سے ستر آدمیوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔عروہ کہتے تھے ان میں حضرت ابو بکر اور حضرت زبیر بھی تھے۔902 ابوسفیان جب جنگ احد کے خاتمے کے وقت درے میں تھا اور اس نے کہا آئندہ سال انہی ایام میں بدر کے مقام پر پھر جنگ کا وعدہ رہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا تو ابوسفیان جلدی سے اپنے لشکر کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔اس سے آگے کے واقعات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں بیان کیے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید احتیاط کے خیال سے فوراستر صحابہ کی ایک جماعت جس میں حضرت ابو بکر اور حضرت زبیر بھی شامل تھے تیار کر کے لشکر قریش کے پیچھے روانہ کر دی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔عام مؤرخین یوں بیان کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت علی یا بعض روایات کی رُو سے حضرت سعد بن ابی وقاص کو قریش کے پیچھے بھجوایا اور ان سے فرمایا کہ اس بات کا پتہ لاؤ کہ لشکر قریش مدینہ پر حملہ کرنے کی نیت تو نہیں رکھتا اور آپ نے ان سے فرمایا اگر قریش اونٹوں پر سوار ہوں اور گھوڑوں کو خالی چلا رہے ہوں تو سمجھنا کہ وہ مکہ کی طرف واپس جارہے ہیں، مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے اور اگر وہ گھوڑوں پر سوار ہوں تو سمجھنا ان کی نیت بخیر نہیں۔اور آپ نے ان کو تاکید فرمائی کہ اگر قریش کا لشکر مدینہ کا رخ کرے تو فوراً آپ کو اطلاع دی جاوے اور آپ نے بڑے جوش کی حالت میں فرمایا کہ اگر قریش نے اس وقت مدینہ پر حملہ کیا تو خدا کی قسم !اہم ان کا مقابلہ کر کے انہیں اس حملہ کا مزا چکھا دیں گے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے آدمی آپ کے ارشاد کے ماتحت گئے اور بہت جلد یہ خبر لے کر واپس آگئے کہ قریش کا لشکر مکہ کی طرف جارہا ہے۔حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عمر سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی طرف چلیں۔ہم ان کی زیارت کریں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔انہوں نے یعنی حضرت انس نے کہا کہ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ان دونوں نے کہا کہ آپ کیوں روتی ہیں؟ جو بھی اللہ کے 903❝