اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 338
حاب بدر جلد 2 338 حضرت ابو بکر صدیق کی طرف بڑھنے والے ہو۔جب دشمن سے مڈھ بھیڑ ہو تو ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور صبر کا مظاہرہ کرنا اور یاد رکھو اللہ کی راہ میں جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے ، جو خرچ بھی کرو گے اور جو پیاس تھکاوٹ اور بھوک تمہیں لاحق ہو گی اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے نامہ اعمال میں عمل صالح لکھے گا۔اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ہاشم نے عرض کیا کہ اگر اللہ نے میرے ساتھ خیر خواہی چاہی تو مجھے ایسا ہی کرے گا اور میں ایسا ہی کروں گا۔قوت و طاقت اللہ ہی عطا کرنے والا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر میں مارا نہ گیا تو میں ان سے لڑوں گا۔پھر ان سے لڑوں گا پھر ان سے لڑوں گا۔پھر کہا کہ مجھے امید ہے کہ اگر میں قتل نہ کیا گیا تو میں ان سے بار بار لڑائی کروں گا یا انہوں نے یہ کہا کہ میری خواہش ہوگی کہ میں قتل کیا جاؤں اور بار بار قتل کیا جاؤں۔یہ دو روایتیں ہیں۔پھر ان سے ان کے چچا حضرت سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ اے بھتیجے ! تم جو بھی نیزے چلاؤ اور جو ضرب بھی لگاؤ اس سے مقصود اللہ کی رضا ہو اور جان لو کہ تم بہت جلد دنیا سے رخصت ہونے والے ہو اور عنقریب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہو اور دنیا سے لے کر آخرت تک تمہارے ساتھ سچائی کا قدم ہو گا جو تم نے اٹھایا ہو گا یا عمل صالح ہو گا جو تم نے کیا ہے۔ہاشم نے کہا: چا جان! آپ میری طرف سے اس بارے میں بالکل بے خوف رہیں۔اگر میر اقیام و سفر ، صبح شام کی نقل و حرکت، کوشش کرنا اور لشکر کشی کرنا اور اپنے نیزے سے زخم لگانا اور اپنی تلوار سے ضرب لگانالوگوں کو دکھانے کے لیے ہو تو پھر میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔یعنی کہ میر اہر عمل تو اللہ کی خاطر ہو گا لوگوں کے لیے نہیں۔پھر حضرت ابو بکر کے پاس سے روانہ ہوئے اور حضرت ابو عبیدہ کا راستہ اختیار کیا یہاں تک کہ ان کے پاس آگئے۔ان کے پہنچنے سے مسلمان خوش ہو گئے اور ایک دوسرے کو ان کی آمد کی خوشخبری سناتے۔حضرت سعید بن عامر بن حِذْيَہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت ابو بکر انہیں جہاد شام پر بھیجنا چاہتے ہیں۔حضرت ابو بکر یہ ایک اور لشکر تیار کر رہے تھے۔حضرت سعید کا خیال تھا کہ یہ ان کی سرکردگی میں جائے گا۔بہر حال ان کو یہ خبر پہنچی لیکن جب حضرت ابو بکر نے کچھ تاخیر کر دی اور کچھ دن ان سے ذکر کرنے سے رکے رہے تو حضرت سعید حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور عرض کیا اے ابو بکر اللہ کی قسم مجھے یہ خبر ملی تھی کہ آپ مجھے رومیوں کی جانب بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر پھر میں نے دیکھا کہ آپ نے خاموشی اختیار کر لی۔میں نہیں جانتا کہ میرے بارے میں آپ کے دل میں کیا خیال آیا ہے اگر آپ میرے علاوہ کسی اور کو امیر بنا کر بھیجنا چاہتے ہیں تو مجھے اس کے ساتھ بھیج دیں۔میرے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خوشی والی بات نہیں ہو گی۔اور اگر آپ کسی کو بھی بھیجنا نہیں چاہتے تو میں جہاد کا شوق رکھتا ہوں آپ مجھے اجازت دیں کہ میں مسلمانوں سے جاملوں۔اللہ آپ پر رحم فرمائے۔میرے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ رومیوں نے بہت بڑا لشکر جمع کیا ہے۔اس پر حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے سعید بن عامر اتمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا تم پر رحم کرے۔جہاں تک میں تمہیں جانتا ہوں تمہارا شمار