اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 339
محاب بدر جلد 2 339 حضرت ابو بکر صدیق تواضع اختیار کرنے والوں، صلہ رحمی کرنے والوں، صبح کے وقت تہجد ادا کرنے والوں اور بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے ہوتا ہے۔تو حضرت سعید نے آپؐ سے عرض کیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے اللہ کے مجھ پر اس سے بڑھ کر احسانات ہیں۔اسی کا فضل اور احسان ہے۔بخدا جہاں تک میں آپ کو جانتا ہوں آپ حق کو کھل کر بیان کرنے والے، انصاف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے والے ، مومنوں کے ساتھ بہت رحم کرنے والے، کافروں کے مقابلے میں انتہائی سخت ہیں۔آپ عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں اور مال کی تقسیم کے وقت کسی کو ترجیح نہیں دیتے۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے انہیں فرمایا: بس کر والے سعید ! بس کرو۔اللہ آپ پر رحم کرے۔جاؤ اور جنگ پر جانے کی تیاری کرو۔میں شام میں موجود مسلمانوں کی طرف ایک لشکر بھیجنے والا ہوں اور اس پر تمہیں امیر مقرر کرتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کریں۔انہوں نے اعلان کیا۔مسلمانو! حضرت سعید بن عامر بن جذیم کے ساتھ شام کی مہم کے لیے تیار ہو جاؤ۔چند دن میں ان کے ساتھ سات سو افراد تیار ہو گئے اور جب حضرت سعید نے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت بلال حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: اے رسول اللہ کے خلیفہ! اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر آزاد کیا تھا تا کہ میں اپنے نفس کا مالک رہوں اور نفع بخش چیز کے سلسلہ میں نقل و حرکت کروں تو آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے رب کی راہ میں جہاد کروں۔مجھے بیٹھے رہنے سے جہاد زیادہ محبوب ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ گواہ ہے کہ میں نے تمہیں اسی کی خاطر آزاد کیا تھا اور میں تم سے اس کے بدلہ کسی قسم کی جزا اور شکریہ کا طلبگار نہیں ہوں۔یہ زمین بہت وسیع ہے پس جس رستے کو تم پسند کرو اس پر چلو۔حضرت بلال نے عرض کیا۔اے صدیق ! شاید آپ نے میری اس بات کا بُرا منایا ہے اور آپ مجھ سے ناراض ہیں۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: نہیں بخدا! میں اس بات سے ناراض نہیں ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ تم میری خواہش کی وجہ سے اپنی خواہش کو ترک مت کرو کیونکہ تمہاری خواہش تمہیں اللہ کی اطاعت کی طرف بلاتی ہے۔حضرت بلال نے عرض کیا اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کے پاس رک جاتا ہوں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: اگر تمہاری خواہش جہاد کرنے کی ہے تو میں تمہیں ٹھہرنے کا حکم کبھی نہیں دوں گا۔میں تمہیں صرف اذان کے لیے چاہتا ہوں اور اے بلال! مجھے تمہاری جدائی سے وحشت محسوس ہوتی ہے لیکن ایسی جدائی ضروری ہے جس کے بعد قیامت تک ملاقات نہ ہو گی۔اے بلال ! تم عمل صالح کرتے رہنا۔یہ دنیا سے تمہارا زاد راہ ہو، عمل صالح اور جب تک تم زندہ رہو گے اس کی وجہ سے اللہ تمہارا ذکر باقی رکھے گا اور جب وفات پاؤ گے تو اس کا بہترین ثواب عطا کرے گا۔حضرت بلال نے آپ سے عرض کیا: اللہ آپ کو اس دوست اور بھائی کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔بخدا! آپ نے جو ہمیں اللہ کی اطاعت پر صبر اور حق اور عمل صالح پر مداومت کا حکم فرمایا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور میں رسول اللہ صلی علیم کے بعد کسی کے لیے اذان نہیں دینا چاہتا۔