اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 337

محاب بدر جلد 2 337 حضرت ابو بکر صدیق کہ اللہ کے حکم سے چھوٹا گر وہ بڑے گروہ پر غالب آجاتا ہے اور اس کے باوجو د میں تمہاری مدد کے لیے مجاہدین پر مجاہدین بھیج رہا ہوں یہاں تک کہ تمہارے لیے کافی ہو جائیں گے اور مزید کی حاجت نہ محسوس کرو گے۔ان شاء اللہ۔والسلام۔حضرت ابو بکر نے دستخط فرمائے۔حضرت ابو بکر نے یہ خط حضرت عبد اللہ بن قرط کو حضرت یزید کی طرف لے جانے کے لیے دیا اور حضرت عبد اللہ آپ کا خط لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ حضرت یزید کے پاس پہنچے اور یہ خط مسلمانوں کے سامنے پڑھا جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے۔778 حضرت ابو بکر نے ہاشم بن عتبہ کو بلایا اور ان سے فرمایا اے ہاشم ! یقینا تمہاری سعادت مندی اور نیک بختی ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جس سے امت اپنے دشمن مشرکین کے خلاف جہاد میں مدد حاصل کر رہی ہے اور جس کی خیر خواہی، صحت رائے، پاکدامنی اور جنگی صلاحیت پر حاکم کو اعتماد اور بھروسا ہے۔حضرت ابو بکر نے انہیں یعنی ہاشم کو فرمایا کہ مسلمانوں نے مجھے خط لکھ کر اپنے دشمن کفار کے مقابلے میں مدد طلب کی ہے تو تم اپنے ساتھیوں کو لے کر ان کے پاس جاؤ۔میں لوگوں کو تمہارے ساتھ جانے پر تیار کر رہا ہوں۔تم یہاں سے روانہ ہو جاؤ یہاں تک کہ ابوعبیدہ سے جاملو۔حضرت ابو بکر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔اور فرمایا۔اما بعد ! یقینا تمہارے مسلمان بھائیوں میں سے کچھ خیر وعافیت سے ہیں۔کچھ زخمی ہیں جن کا دفاع کیا جا رہا ہے اور ان کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دلوں میں ان کا رعب بٹھا دیا ہے۔انہوں نے اپنے قلعوں میں پناہ لے کر ان کے دروازے بند کر لیے ہیں۔مسلمانوں کی طرف سے پیغام رساں یہ خبر لائے ہیں کہ شاہ روم ہر قل نے ان کے سامنے سے بھاگ کر شام کے کنارے ایک بستی میں پناہ لے لی ہے۔انہوں نے ہمیں یہ خبر بھیجی ہے کہ ہر قل نے اس جگہ سے بہت بڑی فوج مسلمانوں سے مقابلے کے لیے روانہ کی ہے۔میرا ارادہ ہے کہ تمہارے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے تمہاری فوج روانہ کروں۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے ان کی پشت مضبوط کرے گا یعنی اس فوج کے ذریعہ سے مسلمانوں کی پشت مضبوط کرے گا اور دشمن کو ذلیل کرے گا اور ان کے دلوں میں اس کا رعب ڈال دے گا۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ہاشم بن عتبہ کے ساتھ تیار ہو جاؤ اور اللہ سے اجر و خیر کی امید رکھو۔اگر تم کامیاب ہوئے تو فتح و غنیمت حاصل ہو گی اور اگر ہلاک ہوئے تو شہادت و کرامت حاصل ہو گی۔پھر حضرت ابو بکر اپنے گھر آئے اور لوگ ہاشم بن عتبہ کے پاس جمع ہونے لگے یہاں تک کہ ان کی تعداد بڑھ گئی۔جب ایک ہزار ہو گئے تو حضرت ابو بکر نے انہیں کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ہاشم نے حضرت ابو بکر کو سلام کیا اور الوداع کہا۔حضرت ابو بکڑ نے ان سے فرمایا اے ہاشم ! ہم بڑے بوڑھے کی رائے، مشورہ اور حسن تدبیر سے استفادہ کیا کرتے تھے اور نوجوانوں کے صبر ، قوت اور شجاعت پر بھروسا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر یہ سب خصائل جمع کر دیے ہیں۔تم ابھی نو عمر اور خیر