اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 330

ناب بدر جلد 2 330 حضرت ابو بکر صدیق کم حیثیت کے لوگ ہیں نہ کمزور نہ گھٹیا، نہ مذہبی تشد درکھنے والے ہیں۔پس تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا اور اپنا بازو ان پر جھکائے رکھنا اور ان سے اہم معاملات میں مشورہ کرنا، حسن سلوک کرنا۔اللہ تمہارے لیے تمہارے ساتھیوں کو حسن سلوک کرنے والا بنائے۔اور پھر فرمایا کہ ہماری خلافت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مدد فرمائے۔حضرت ابو بکر کی صبح و شام کی دعا پھر حضرت یزید اپنے لشکر کو لے کر شام کی طرف روانہ ہو گئے۔حضرت ابو بکر ہر صبح شام نماز فجر اور عصر کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ !تو نے ہمیں پیدا کیا ہم کچھ بھی نہ تھے۔پھر تُو نے اپنی جناب سے رحمت اور فضل نازل کرتے ہوئے ہماری طرف ایک رسول بھیجا۔پھر تُو نے ہمیں ہدایت دی جبکہ ہم گمراہ تھے اور تو نے ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دی جبکہ ہم کافر تھے۔ہم تعداد میں تھوڑے تھے اور تو نے ہمیں زیادہ کیا۔ہم پراگندہ تھے، تو نے ہمیں اکٹھا کر دیا۔ہم کمزور تھے ، تو نے ہمیں طاقت بخشی۔پھر تو نے ہم پر جہاد فرض کیا اور ہمیں مشرکین سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں اور وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور وہ بے بس ہو چکے ہوں۔یا تو مسلمان ہو جائیں یا اگر مسلمان نہیں ہوتے تو پھر جزیہ ادا کریں۔اے اللہ ! ہم تیرے اس دشمن سے جہاد کے بدلے تیری خوشنودی کے خواہاں ہیں جس نے تیرے ساتھ شریک ٹھہرایا اور تیرے سوا اور معبودوں کی عبادت کی۔اے اللہ ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ظالم جو کہتے ہیں تیری شان اس سے بہت بلند ہے۔اے اللہ ! اپنے مشرک دشمنوں کے مقابلے میں اپنے مسلمان بندوں کی مدد فرما۔اے اللہ! انہیں آسان فتح نصیب فرما اور ان کی بھر پور مدد کر۔ان میں سے جو کم ہمت ہیں انہیں بہادر بنا دے اور ان کے قدموں کو ثبات بخش اور ان کے دشمنوں کو لڑکھڑا دے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور ان کو تباہ و برباد کر دے اور انہیں جڑ سے کاٹ ڈال اور ان کی کھیتیوں کو تباہ کر دے اور ہمیں ان کی زمینوں، ان کے گھروں، ان کے اموال اور ان کے نشانات کا وارث بنا اور تُو ہمارا ولی اور ہم پر مہربان ہو جا۔اور ہمارے معاملات کو درست کر دے۔تیری نعمتوں سے حصہ پانے کے لیے ہمیں شکر گزار لوگوں میں سے بنادے۔تو ہمیں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بھی بخش دے۔ان میں سے جو زندہ ہیں ان کو بھی اور جو وفات پاچکے ہیں ان کو بھی۔اللہ ہمیں اور تمہیں دنیا اور آخرت میں قول ثابت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہنے والا بنائے۔یقیناًوہ مومنوں کے ساتھ بہت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔دوسر الشکر جو تھا میر حبیل بن حسنہ کا تھا۔حضرت شرحبیل بن حسنہ کے والد کا نام عبد اللہ بن مطاع اور والدہ کا نام حسنہ تھا۔آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور حضرت شرحبیل کے والد ان کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اور یہ اپنی والدہ حسنہ کے نام پر شر صبیل بن حسنہ کہلائے۔حضرت شرحبیل 763