اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 331

اصحاب بدر جلد 2 331 حضرت ابو بکر صدیق ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔خلافت راشدہ میں یہ مشہور سپہ سالاروں میں سے ایک تھے۔اٹھارہ ہجری میں سڑسٹھ سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔764 حضرت شرحبیل بن حسنہ کی روانگی کے لیے حضرت ابو بکر نے حضرت یزید بن ابو سفیان کی روانگی کے تین دن بعد کی تاریخ مقرر فرمائی۔جب تیسرا دن گزر گیا تو آپ نے حضرت شرحبیل کو الوداع کہا اور فرمایا، اسے شہر حبیل! کیا تم نے یزید بن ابو سفیان کو جو وصیت میں نے کی اس کو نہیں سنا۔انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔پہلے میں نے سنی ہیں (جو نصیحتیں میں نے پڑھی ہیں ) اس پر حضرت ابو بکر نے فرمایا، میں تمہیں اسی کی مانند وصیت کرتا ہوں اور ان باتوں کی بھی وصیت کرتا ہوں جن کا ذکر یزید کو کرنا بھول گیا تھا۔میں تمہیں نماز وقت پر ادا کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور جنگ کے روز ثابت قدم رہنے کی یہاں تک کہ تم فتح حاصل کر لو یا شہید ہو جاؤ اور مریضوں کی عیادت کرنے اور جنازوں میں شامل ہونے اور ہر حال میں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ابوسفیان نے آپ سے عرض کیا کہ یزید ان صفات پر پہلے ہی کار بند ہے اور شام جانے سے قبل ہی اس پر دوام اختیار کیے ہوئے تھا۔اب وہ اس کو زیادہ لازم کر لے گا ان شاء اللہ۔حضرت شرحبیل نے جواب دیا: اللہ سے مدد مانگتے ہیں جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا۔پھر حضرت ابو بکر کو الوداع کہا اور اپنے لشکر کے ساتھ جانب شام روانہ ہو گئے۔حضرت شرحبیل کے لشکر کی تعداد تین ہزار سے چار ہزار تک تھی۔آپ کو یہ حکم فرمایا کہ تبوک اور بلقاء جائیں اور پھر بضری کا رخ کریں اور یہ آخری منزل ہو۔بصر کی شام کا ایک قدیم اور مشہور شہر ہے۔حضرت شرحبیل بلقاء کی طرف روانہ ہو گئے۔کوئی قابل ذکر مقابلہ نہ ہوا۔بلقاء بھی شام کے علاقہ میں واقع ہے آپ کا لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے بائیں اور لشکر عمرو بن عاص کے دائیں جانب چلتے ہوئے بلقاء پہنچا اور اندر کھس گیا اور بصری پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا لیکن فتح حاصل نہ ہو سکی کیونکہ یہ رومیوں کے محفوظ اور مضبوط مراکز میں سے تھا۔تیسر الشكر ابو عبیدہ بن جراح کا تھا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا نام عامر بن عبد اللہ تھا اور ان کے والد کا نام عبد اللہ بن جراح تھا۔حضرت ابو عبیدہ اپنی کنیت کی وجہ سے زیادہ مشہور ہیں جبکہ آپ کے نسب کو آپ کے دادا جراح سے جوڑا جاتا ہے۔آپ ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ صلی العلیم نے اپنی زندگی میں جنت کی بشارت دی تھی۔جنہیں عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔ان کی وفات اٹھارہ ہجری میں ہوئی۔اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی۔766 تیسر ا لشکر جو حضرت ابو بکر نے شام کی جانب روانہ کیا جیسا کہ میں نے کہا اس کے امیر حضرت ابو عبیدہ تھے۔ان کو حمص کی جانب روانہ فرمایا ہے۔حمص بھی دمشق کے قریب شام کا ایک قدیم شہر ہے 765