اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 329

اصحاب بدر جلد 2 329 حضرت ابو بکر صدیق ان کے ساتھ خیر سے پیش آنا اور ان کو خیر کا وعدہ دلانا اور جب انہیں وعظ و نصیحت کر ناتو مختصر کرنا کیونکہ بہت زیادہ گفتگو بہت سی باتوں کو بھلا دیتی ہے۔تم اپنے نفس کو درست رکھو، لوگ تمہارے لیے درست ہو جائیں گے۔لیڈر اپنے آپ کو ٹھیک رکھیں تو لوگ خود درست ہو جائیں گے۔اور نمازوں کو ان کے اوقات پر رکوع و سجود کو مکمل کرتے ہوئے ادا کرنا، ان میں خشوع و خضوع کا مکمل اہتمام کرنا اور جب دشمن کے سفیر تمہارے پاس آئیں تو ان کا اکرام کرنا۔سفیر آتا ہے تو اس کی عزت کرنی ہے۔انہیں بہت کم ٹھہرانا اور تمہارے لشکر سے جلد نکل جائیں تا کہ وہ اس لشکر کے بارے میں کچھ جان نہ سکیں۔یہ بھی حکمت ہے کہ سفیر آئیں تو ان کو کم سے کم ٹھہراؤ اور جلدی رخصت کر دو۔اور اپنے امور پر ان کو مطلع نہ ہونے دینا کہ انہیں تمہاری خرابی کا پتہ چل جائے اور وہ تمہاری معلومات حاصل کرلیں۔انہیں اپنے لشکر کے جمگھٹے میں رکھنا۔اپنے لوگوں کو ان سے بات کرنے سے روک دینا۔جب تم خود ان سے بات کرو تو اپنے بھید کو ظاہر نہ کرنا ورنہ تمہارا معاملہ خلط ملط ہو جائے گا۔جب تم کسی سے مشورہ لینا تو بات سچ کہنا، صحیح مشورہ ملے گا۔مشیر سے اپنی خبر مت چھپانا اور نہ تمہاری وجہ سے تمہیں نقصان پہنچے گا۔یہ بھی ایک اصول ہے کہ جس سے مشورہ لینا ہے اس کو پھر ہر بار یک بات بھی بتانی پڑتی ہے تاکہ وہ صحیح مشورہ دے سکے اور کم سے کم نقصان ہو۔رات کے وقت اپنے دوستوں سے باتیں کرو تمہیں بہت سی خبریں مل جائیں گی اور رات کو معلومات اکٹھی کرو تو پوشیدہ باتیں تم پر ظاہر ہو جائیں گی۔حفاظتی دستہ میں زیادہ افراد کو رکھنا اور انہیں اپنی فوج میں پھیلا دینا اور اکثر بغیر اطلاع دیے اچانک ان کی چوکیوں کا معائنہ کرنا۔جسے اپنی حفاظت گاہ سے غافل پاؤ اس کی اچھی طرح تادیب کرنا اور سزا دیتے ہوئے افراط سے کام نہ لینا۔رات میں ان کی باریاں مقرر کرنا۔اول شب کی باری آخری شب سے لمبی رکھنا کیونکہ دن سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ باری آسان ہوتی ہے۔شروع رات کی جو ڈیوٹی ہے وہ لبی رکھو کیونکہ اس میں جاگنا آسان ہے اور آخری رات کی جو ڈیوٹی ہے وہ ذرا کم ہو۔سزا کے مستحق کو سزا دینے سے مت ڈرنا۔اس میں نرمی نہ کرنا۔سزا دینے میں جلدی نہ کرنا اور نہ بالکل نظر انداز کرنا۔پھر فرمایا کہ اپنی فوج سے غافل نہ رہنا کہ وہ خراب ہو جائیں اور ان کی جاسوسی کر کے ان کو رسوا نہ کرنا۔ان کی راز کی باتیں لوگوں سے نہ بیان کرنا۔ان کے ظاہر پر اکتفا کرنا۔بریکار قسم کے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھنا۔سچے اور وفادار لو گوں کے ساتھ بیٹھنا۔دشمن سے مڈھ بھیڑ کے وقت ڈٹ جانا۔بزدل نہ بنناور نہ لوگ بھی بزدل ہو جائیں گے۔مالِ غنیمت میں خیانت سے بچنا یہ محتاجی سے قریب کرتی ہے اور فتح و نصرت کو روکتی ہے۔تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو گرجوں میں وقف کر رکھا ہو گا۔پس تم انہیں اور جس کام میں انہوں نے اپنے آپ کو مشغول رکھا ہو گا اسے چھوڑ دینا۔12 تو یہ ایک مکمل لائحہ عمل ہے جو ہر لیڈر کے لیے، ہر عہدے دار کے لیے، کام کرنے کے لیے، عمل کرنے کے لیے بڑا ضروری ہے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت یزید کا ہاتھ پکڑا اور انہیں الوداع کرتے ہوئے فرمایا: تم پہلے شخص ہو جسے میں نے مسلمانوں کے معززین پر امیر مقرر کیا ہے جو نہ تو 762