اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 328
اصحاب بدر جلد 2 328 حضرت ابو بکر صدیق برباد کرنا اور کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا۔تم کسی جانور کو ذبح نہ کرنا سوائے کھانے کے لیے۔بلاوجہ جانوروں کو بھی ذبح نہیں کرنا یا مار نا نہیں۔اور تم کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جنہوں نے اللہ کے لیے اپنے آپ کو گرجوں میں وقف کر رکھا ہو گا، پس تم انہیں اور اس چیز کو جس کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہو گا چھوڑ دینا۔یعنی جو راہب ہیں، گرجوں کے پادری ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا اور تم کچھ ایسے لوگوں کو بھی پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سر کے بال در میان سے صاف کیسے ہوں گے۔ان کے سروں کا درمیانی حصہ اس طرح ہو گا جیسے تیتر نے انڈے دینے کے لیے زمین میں گڑھا کھودا ہو۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے سر کے بال در میان سے صاف کیے ہوں گے اور چاروں طرف سے پیٹیوں کی مانند بال چھوڑے ہوں گے۔پس تم ان کے سروں کے صاف کیے ہوئے حصوں پر تلوار سے ضرب لگانا۔ان لوگوں کو جو مارنے کا حکم ہے ، ان لوگوں کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یہ عیسائیوں کا ایک گروہ تھا جو راہب تو نہیں تھے لیکن مذہبی لیڈر تھے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے بھڑکاتے رہتے تھے اور جنگ میں حصہ بھی لیتے تھے۔اس لیے حضرت ابو بکر نے یہ تو فرمایا کہ جو راہب ہیں، گرجوں کے اندر ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا لیکن ایسے لوگ اور ان لوگوں کے پیچھے چلنے والے وہ لوگ ، جو جنگ کے لیے بھڑ کاتے ہیں اور مسلمانوں سے جنگ کرتے ہیں، ان سے بہر حال جنگ کرنی ہے کیونکہ یہ لوگ جنگ کرنے والے بھی ہیں اور جنگ کے لیے بھڑ کانے والے بھی ہیں۔فرمایا کہ ان سے جنگ کرنی ہے یہاں تک کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں یا بے بس ہو کر جزیہ دیں۔جو اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ غیب سے اس کی مدد کرتا ہے۔اور میں تمہیں سلام کہتا ہوں اور اللہ کے سپر د کر تا ہوں۔761 ہر عہدیدار اور لیڈر کے لئے لائحہ عمل ایک اور روایت میں ان کے علاوہ مزید ہدایت کا بھی ذکر ملتا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت یزید بن ابو سفیان کو فرمایا میں نے تمہیں والی مقرر کیا تا کہ تمہیں آزماؤں، تمہارا تجربہ کروں اور تمہیں باہر نکال کر تمہاری تربیت کروں۔اگر تم نے اپنے فرائض بحسن و خوبی ادا کیے تو تمہیں دوبارہ تمہارے کام پر مقرر کروں گا اور تمہیں مزید ترقی دوں گا۔اگر تم نے کو تاہی کی تو تمہیں معزول کر دوں گا۔اللہ کے تقویٰ کو تم لازم پکڑو۔وہ تمہارے باطن کو اسی طرح دیکھتا ہے جس طرح ظاہر کو دیکھتا ہے۔فرمایا کہ لوگوں میں خدا کے زیادہ قریب وہ ہے جو اللہ سے دوستی کا سب سے بڑھ کر حق ادا کرنے والا ہے اور لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ شخص ہے جو اپنے عمل کے ذریعہ سب سے زیادہ اس سے قربت حاصل کرے۔میں نے خالد بن سعید کی جگہ تم کو مقرر کیا ہے۔جاہلی تعصب سے بچنا۔اللہ کو یہ باتیں اور ایسا کرنے والا انتہائی ناپسند ہیں۔جب تم اپنے لشکر کے پاس پہنچو تو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔