اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 325 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 325

اصحاب بدر جلد 2 325 حضرت ابو بکر صدیق حضرت انس مدینہ واپس پہنچے اور حضرت ابو بکر کولوگوں کی آمد کی خوشخبری سناتے ہوئے عرض کیا کہ یمن کے بہادر، دلیر اور شہوار پراگندہ بالوں والے اور گرد و غبار سے بھرے ہوئے آپ کے پاس پہنچنے والے ہیں۔وہ اپنے مال و اسباب اور بیوی بچوں کے ساتھ نکل چکے ہیں۔جيش البدال 757 دوسری طرف حضرت خالد بن سعید تیماء پہنچ کر وہیں مقیم ہو گئے اور اطراف کی بہت سی جماعتیں ان سے آملیں۔رومیوں کو مسلمانوں کے اس عظیم لشکر کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے زیر اثر عربوں سے شام کی جنگ کے لیے فوجیں طلب کیں۔حضرت خالد بن سعید نے حضرت ابو بکر کو رومیوں کی اس تیاری کے متعلق لکھا۔حضرت ابو بکر نے جواباً لکھا کہ تم پیش قدمی کرو اور ذرامت کھبر اؤ اور اللہ سے مدد طلب کرو۔اس پر حضرت خالد بن سعید رومیوں کی طرف بڑھے مگر جب آپ ان کے قریب پہنچے تو وہ ادھر اُدھر منتشر ہو گئے اور انہوں نے اپنی جگہ کو چھوڑ دیا۔حضرت خالد بن سعید اس جگہ پر قابض ہو گئے اور اکثر لوگ جو آپ کے پاس جمع تھے مسلمان ہو گئے۔حضرت خالد بن سعید نے حضرت ابو بکر کو اس کی اطلاع دی۔حضرت ابو بکر نے لکھا کہ تم آگے بڑھو مگر اتنا آگے نہ نکل جانا کہ پیچھے سے دشمن کو حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔حضرت خالد بن سعید ان لوگوں کو لے کر چل پڑے یہاں تک کہ ایک مقام پر پڑاؤ کیا۔وہاں ان کے مقابلے پر ایک رومی پادری باهان نامی آیا۔حضرت خالد بن سعید نے اسے شکست دی اور اس کے میں سے بہتوں کو قتل کیا اور بابان نے فرار ہو کر دمشق کی طرف پناہ لی۔حضرت خالد بن سعید نے اس کی اطلاع حضرت ابو بکر کو دے کر مزید کمک طلب کی۔اس وقت حضرت ابو بکر کے پاس سیمین سے جہادِ شام کی غرض سے ابتدائی طور پر کوچ کر کے آنے والے لوگ موجود تھے۔اس کے علاوہ مکہ اور یمن کے درمیان کے لوگ بھی آئے ہوئے تھے۔ان لوگوں میں حضرت ذُو العلاع " بھی تھے۔نیز حضرت عکرمہ بھی مرتدین کے خلاف جنگ سے کامیاب ہو کر حضرت ابو بکرؓ کے پاس واپس لوٹے تھے جن کے ساتھ کچھ علاقوں کے اور لوگ بھی تھے۔ان سب کے متعلق حضرت ابو بکر نے امرائے صدقات کو لکھا کہ جو لوگ تبدیلی کے خواہاں ہوں ان کو تبدیل کر دو تو سب نے تبدیل ہو نا چاہا اور ان سب کو بدل کر ایک نیا لشکر تیار کیا گیا۔اس لیے اس لشکر کا نام جیش النبرال پڑ گیا۔یہ فوجیں حضرت خالد بن سعید کے پاس پہنچیں۔اس کے بعد بھی حضرت ابو بکر لوگوں کو شام کی جنگ کے لیے ترغیب دلاتے رہے۔حضرت ابو بکر نے حضرت ولید بن عقبہ کو حضرت خالد بن سعید کی طرف شام پہنچنے کا ارشاد فرمایا۔وہ جب خالد بن سعید کے پاس پہنچے تو انہوں نے انہیں بتایا کہ اہل مدینہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے بے تاب ہیں اور حضرت ابو بکر فوجیں بھیجنے کا بندوبست کر رہے ہیں۔یہ سن کر حضرت خالد بن