اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 324

ناب بدر جلد 2 324 حضرت ابو بکر صدیق کے لیے لہرایا گیا وہ حضرت خالد بن سعید کا تھا۔755 الله اس کے علاوہ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابو بکر نے مرتدین کے خلاف گیارہ لشکر تیار کر کے روانہ فرمائے تھے تو اس وقت ہی آپ نے حضرت خالد بن سعید کو شام کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تیاء جانے کا حکم دیا تھا اور ہدایت فرمائی تھی کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔اطراف کے لوگوں کو اپنے سے ملنے کی دعوت دینا اور صرف ان لوگوں کو بھرتی کرنا جو مرتد نہ ہوئے ہوں اور صرف ان سے جنگ کرنا جو تم سے جنگ کریں یہاں تک کہ میری طرف سے کوئی اور حکم آجائے۔تیماء بھی شام اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور شہر ہے۔حضرت ابو بکر نے رومیوں کے خلاف جنگ کے لیے اہل مدینہ کے علاوہ دیگر علاقوں کے مسلمانوں کو بھی تیار کرناشروع کیا اور انہیں جہاد میں شامل ہونے کی ترغیب دلائی۔چنانچہ آپ نے اہل یمن کی طرف بھی ایک خط لکھا جس کا متن اس طرح سے ہے کہ رسول اللہ صلی علیم کے خلیفہ کی طرف سے اہل یمن میں سے مومنین اور مسلمانوں کے ہر فرد کے لیے جس پر یہ پڑھا جائے، تم پر سلامتی ہو۔میں تمہارے سامنے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جہاد فرض کیا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اس کے لیے تھوڑی تیاری یا بھر پور تیاری کر کے نکلیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ (التوبہ: 41) اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔پس جہاد لازمی فریضہ ہے اور اللہ کے ہاں اس کا اجر عظیم ہے اور ہم نے مسلمانوں کو شام میں رومیوں سے جہاد کے لیے تیاری کا حکم دیا ہے۔ان کی نیتیں اچھی اور مرتبہ بلند ہے۔پس اے اللہ کے بندو! اپنے رب کے فرض اور اس کے نبی کی سنت اور دو میں سے ایک نیکی کی طرف جلدی کرو؛ یا تو شہادت یا پھر فتح اور مال غنیمت ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی بے عمل باتوں سے راضی نہیں ہوتا اور نہ اس کے دشمنوں سے جہاد ترک کرنے سے راضی ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ حق کو قبول کر لیں اور قرآن کریم کے حکم کو مان لیں۔اللہ تمہارے دین کی حفاظت کرے اور تمہارے دلوں کو ہدایت دے اور تمہارے اعمال کو پاک کر دے اور تمہیں صبر کرنے والے مجاہدین جیسا اجر عطا کرے۔حضرت ابو بکر نے یہ خط حضرت انس بن مالک کے ہاتھ بھیجا تھا۔حضرت انس کہتے ہیں کہ میں یمن پہنچا اور ایک ایک محلے اور ایک ایک قبیلے سے آغاز کیا۔میں ان کے سامنے حضرت ابو بکر کا خط پڑھتا تھا اور جب میں خط پڑھنے سے فارغ ہو تا تھا تو کہتا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ، اللہ کے رسول ہیں، صلی اللہ علیہ وسلم۔میں رسول اللہ صلی الیکم کے خلیفہ اور مسلمانوں کا پیغام رساں ہوں۔غور سے سنو! میں نے مسلمانوں کو اس حالت میں چھوڑا ہے کہ وہ ایک لشکر کی صورت میں جمع ہیں۔انہیں اپنے دشمن کی طرف روانہ ہونے سے صرف تمہارا (یعنی مدینہ آمد کا انتظار روکے ہوئے ہے۔پس تم جلدی سے اپنے بھائیوں کی طرف کوچ کرو۔اے مسلمانو ! اللہ تم پر رحم کرے۔756