اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 326
حاب بدر جلد 2 326 حضرت ابو بکر صدیق سعید کی خوشی کی انتہانہ رہی اور انہوں نے اس خیال سے کہ رومیوں پر فتح یابی کا فخر انہی کے حصہ میں آئے حضرت ولید بن عقبہ کو ساتھ لے کر رومیوں کی عظیم الشان فوج پر حملہ کرنا چاہا جس کی قیادت ان کا سپہ سالار بابان کر رہا تھا۔758 رومیوں کے سپہ سالار بابان سے مقابلہ اور وقتی ناکامی کا سامنا گویا حضرت خالد بن سعید نے رومی لشکر پر حملہ کرتے وقت حضرت ابو بکر کی اس ہدایت کو نظر انداز کر دیا کہ تم اتنا آگے نہ نکل جانا کہ پیچھے سے دشمن کو حملہ کرنے کا موقع مل جائے اور بہر حال وہ اپنی پشت کے دفاع سے غافل ہو گئے اور دیگر امرا کے پہنچنے سے پہلے ہی رومیوں سے جنگ شروع کر دی۔بابان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کے سامنے سے ہٹ کر د مشق کی طرف نکل گیا۔باھان کا پیچھے ہٹنا اصل میں ایک چال تھی۔وہ مسلمانوں کو گھیرے میں لے کر پیچھے سے ان پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔اس خطرے سے حضرت ابو بکر نے انہیں خبر دار کیا تھا لیکن کامیابی کے جذبے نے حضرت خالد بن سعید کو خلیفہ وقت کی اس تنبیہ سے غافل کر دیا اور آگے بڑھنے پر اکسا دیا۔حضرت خالد بن سعید دشمن کی فوج میں آگے گھستے گئے۔اس وقت ان کے ہمراہ حضرت ولید بن عقبہ کے علاوہ حضرت ذوالکلاع اور حضرت عکرمہ بھی تھے۔وہاں حضرت خالد بن سعید کو باہان کی فوجی چوکیوں نے ایک ساتھ مل کر محصور کر لیا اور ان کے راستے روک لیے۔حضرت خالد کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔اس کے بعد باہان نے پیش قدمی کی اور ایک جگہ حضرت خالد کے بیٹے سعید کو کچھ لوگوں کے ساتھ پانی کی تلاش میں گھومتے ہوئے پالیا اور ان سب کو قتل کر دیا۔حضرت خالد بن سعید کو اس کی خبر ہوئی یعنی ان کے بیٹے اور ان کے ساتھیوں کے قتل ہونے کی، شہید ہونے کی خبر ہوئی، تو سواروں کے ایک دستہ کے ساتھ وہاں سے فرار ہو گئے اور بجائے اس کے کہ مقابلہ کرتے وہاں سے چھوڑ کے چلے گئے۔ان کے بعد بہت سے ساتھی بھی گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہو کر اپنے لشکر سے منقطع ہو گئے۔خالد شکست کھاتے ہوئے ذُو الْمَرُ وہ تک پہنچ گئے مگر حضرت عکرمہ اپنی جگہ سے نہ ہٹے بلکہ مسلمانوں کی مدد کرتے رہے۔ذوالمر وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے کوئی چھیانوے میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے۔بہر حال حضرت عکرمہ نے بابان اور اس کی فوجوں کو حضرت خالد کا تعاقب کرنے سے باز رکھا۔اس کی اطلاع جب حضرت ابو بکر کو ہوئی تو آپ نے حضرت خالد سے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔البتہ بعد میں جب انہیں مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی تو انہوں نے حضرت ابو بکر سے اس فعل پر معافی مانگی۔59 چار رلشکروں کی روانگی حضرت خالد بن سعید کی اس ناکامی کے باوجو د حضرت ابو بکر صدیق کے عزم وحوصلہ میں ہر گز فرق نہ آیا۔جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ حضرت عکرمہ اور حضرت ذُو الكلاع “اسلامی لشکروں کو رومیوں کے