اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 292
اصحاب بدر جلد 2 جاتے ہوئے سیف البحر پر ایک بستی ہے۔694 292 حضرت ابو بکر صدیق حفیر علاقہ میں ہونے کی وجہ سے اس جنگ کو جنگ حفیر بھی کہا جاتا ہے۔695 مسلمانوں کی طرف سے اس جنگ کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید تھے اور ایرانیوں کی جانب سے سپہ سالار کا نام ھرمز تھا۔مسلمانوں کے لشکر کی تعداد اٹھارہ ہزار تھی۔696 جیسا کہ گذشتہ خطبات میں بیان ہو چکا ہے کہ ھرمز ایرانیوں کی جانب سے اس علاقے کا حاکم تھا جو حسب و نسب اور شرف و عزت میں اکثر امرائے ایران سے بڑھا ہوا تھا۔ایرانی معززین کی عادت تھی کہ وہ معمولی ٹوپیوں کی بجائے قیمتی ٹوپیاں پہنتے تھے اور حسب و نسب اور شرف و عزت میں جو شخص جس مرتبے کا ہو تا تھا اس مناسبت سے قیمتی ٹوپی پہنتا تھا۔سب سے بیش قیمت ٹوپی کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ در ہم کی ہوتی تھی جسے وہی شخص پہن سکتا تھا جو شرف و عزت اور توقیر و وجاہت میں کمال درجہ پر پہنچا ہوا ہو اور ھرمز کے مرتبے کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ اس کی ٹوپی کی قیمت بھی ایک لاکھ درہم ایرانیوں کے نزدیک تو اس کی وجاہت مسلم تھی لیکن عراق کی حدود میں بسنے والے عربوں میں اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ وہ ان عربوں پر تمام سرحدی امراء سے زیادہ سختی اور ظلم کرتا تھا۔عربوں کی نفرت اس حد تک پہنچی ہوئی تھی یعنی غیر مسلمان عرب جو تھے کہ وہ کسی شخص کی 697 شخص تو خباثت کا ذکر کرتے ہوئے گھر ٹمز کا نام بطور ضرب المثل لینے لگے تھے۔چنانچہ کہتے تھے کہ فلاں ھرمز سے بھی زیادہ خبیث ہے۔فلاں ہر مُز سے بھی زیادہ بد فطرت اور بد طینت ہے۔فلاں شخص هرمز سے بھی زیادہ احسان فراموش ہے۔اور اسی وجہ سے ھرمز کو عربوں کے پے در پے چھاپوں اور جھڑپوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا اور دوسری طرف ہرمز کی جھڑ ہیں ہندوستان کے بحری قزاقوں سے بھی ہوتی رہتی تھیں۔بہر حال حضرت خالد بن ولید نے یمامہ سے روانگی سے قبل ہر مز کو خط لکھا تھا۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ اما بعد! فرمانبرداری اختیار کر لو، تم محفوظ رہو گے یا اپنی اور اپنی قوم کے لیے حفاظت کی ضمانت حاصل کر لو اور جزیہ دینے کا اقرار کرو ورنہ تم بجز اپنے آپ کے کسی اور کو ملامت نہیں کر سکو گے۔میں تمہارے مقابلے کے لیے ایسی قوم کو لایا ہوں جو موت کو یوں پسند کرتی ہے جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔698 جب حضرت خالد کا خط هرمز کے پاس پہنچا تو اس نے ارد شیر شاہ کسریٰ کو اس کی اطلاع دی اور اپنی فوجیں جمع کیں اور ایک تیز رو دستے کو لے کر فوراً حضرت خالد کے مقابلے کے لیے کاظمہ پہنچا اور اپنے گھوڑوں سے آگے بڑھ گیا مگر اس نے اس راستے پر حضرت خالد بن ولید کو نہ پایا اور اس کو یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا لشکر حفیر میں جمع ہو رہا ہے۔اس لیے پلٹ کر حفیر کی طرف روانہ ہوا۔حفیر بصرہ سے مکہ کی طرف جاتے ہوئے پہلی منزل تھی۔وہاں پہنچتے ہی اپنی فوج کی صف آرائی کی۔ہر مز نے اپنے دائیں بائیں