اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 291
صحاب بدر جلد 2 291 حضرت ابو بکر صدیق ہونے پر انہیں بٹائی کا بہت تھوڑا حصہ ملتا تھا۔اکثر حصہ ان ایرانی زمینداروں کے پاس چلا جاتا تھا جو ان زمینوں کے مالک تھے۔یہ زمیندار غریب عربوں پر بے حد ظلم توڑتے تھے اور ان کے ساتھ غلاموں سے بھی بد تر سلوک کیا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر نے عراق میں اپنے سالاروں کو حکم دے دیا کہ جنگ کے دوران میں ان عرب کاشتکاروں کو کوئی تکلیف نہ دی جائے اور نہ انہیں قتل کیا جائے اور نہ قیدی بنایا جائے۔غرض ان سے کسی قسم کی بدسلو کی نہ کی جائے کیونکہ وہ بھی ان کی طرح عرب ہیں اور ایرانیوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔انہیں اس بات کا احساس دلانا چاہیے کہ یہاں عربوں کی حکومت قائم ہونے سے ان کی مظلومانہ زندگی کے دن ختم ہو جائیں گے اور اب وہ اپنے ہم قوم لوگوں کی بدولت حقیقی عدل و انصاف اور جائز آزادی اور مساوات سے بہرہ ور ہو سکیں گے۔حضرت ابو بکر کی اس حکمت عملی نے مسلمانوں کو بے حد فائدہ پہنچایا۔ان کی فتوحات کے راستے میں آسانیاں پید اہو گئیں اور انہیں یہ خدشہ نہ رہا کہ پیش قدمی کرتے وقت کہیں پیچھے سے حملہ ہو کر ان کا راستہ مسدود نہ ہو جائے۔جب حضرت خالد بن ولید نے نتائج میں پڑاؤ ڈالا تو حضرت مُتقی اس وقت اپنی فوج کے ساتھ خَفَّان میں موجود تھے۔نتاج، بصرہ اور یمامہ کے درمیان ایک مقام ہے۔خفان کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے۔691 حضرت خالد نے حضرت مشکی کی طرف ایک خط لکھا کہ وہ آپ کے پاس آئیں اور اس کے ساتھ حضرت ابو بکر کا وہ خط بھی بھیجا جس میں حضرت ابو بکر نے حضرت مثلی بن حارثہ کو حضرت خالد کی اطاعت کا حکم دیا تھا۔692 یہ ساری تاریخ طبری کی روایت ہے۔پہلے تو وہ تھی پھر یہ تھا کہ خالد کو حضرت ابو بکڑ نے خود بھیجا تھا۔بہر حال پھر جنگیں ہوئیں۔693 ایرانیوں کے خلاف کارروائیاں جنگ ذات السلاسل یا جنگ کا ظمہ ایک جنگ جو ہوئی اسے جنگ ذات السلاسل یا جنگ کاظمہ کہتے ہیں۔یہ جنگ محرم الحرا 12 ہجری میں ہوئی۔یہ جنگ تین ناموں سے معروف ہے۔جنگ ذات السلاسل، جنگ کا ظمہ اور جنگ حَفِیر۔اس جنگ کو ذَاتُ السّلاسل یعنی زنجیروں والی جنگ اس لیے کہا جاتا ہے کہ عربی میں سلسلة زنجیر کو کہتے ہیں جس کی جمع سلاسل ہے۔کیونکہ اس جنگ میں ایرانی فوج نے اپنے آپ کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ لیا تھا تا کہ کوئی شخص جنگ سے بھاگنے نہ پائے۔جنگ ذات السلاسل کی اس روایت کو بعض مؤرخین تسلیم نہیں کرتے۔یہ جنگ مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان حاظمہ مقام کے قریب لڑی گئی تھی اس لیے اسے جنگ کا ظمہ کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔کاظمہ بصرہ سے بحرین