اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 293

حاب بدر جلد 2 293 حضرت ابو بکر صدیق دو بھائیوں کو مقرر کیا۔ان میں سے ایک کا نام قباؤ اور دوسرے کا نام انوشجان تھا۔ایرانیوں نے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ لیا تھا۔اس روایت میں تو یہی بیان ہوا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر وہ لوگ جن کی رائے اس کے خلاف تھی جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ تم لوگوں نے دشمن کے لیے خود ہی اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔ایسا نہ کرو۔یہ بری فال ہے۔اس کا انہوں نے جواب دیا جو اس حق میں تھے کہ زنجیروں سے جکڑا جائے کہ تمہارے متعلق ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم بھاگنے کا ارادہ رکھتے ہو۔جب حضرت خالد کو ہرمز کے حضیر پہنچنے کی اطلاع ملی تو آپ اپنے لشکر کو لے کر کاظمہ کی طرف مڑ گئے۔ہر مز کو اس کا پتا چل گیا تو وہ فورا کاظمہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں پڑاؤ کیا۔ہر مُز اور اس کے لشکر نے صف آرائی کی اور پانی پر ان کا قبضہ تھا۔جب حضرت خالد بن ولید آئے تو ان کو ایسے مقام پر اترنا پڑا جہاں پانی نہیں تھا۔لوگوں نے آپ سے اس کی شکایت کی۔آپ کے منادی نے اعلان کیا کہ سب لوگ اتر پڑیں اور سامان نیچے اتار لیں اور دشمن سے پانی کے لیے لڑائی کریں کیونکہ بخدا پانی پر اسی جماعت کا قبضہ ہو گا جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ ثابت قدم رہے گی اور دونوں لشکروں میں زیادہ معزز ہو گی۔اس پر سامان اتار لیا گیا۔سوار فوج اپنی جگہ کھڑی رہی۔پیدل فوج نے پیش قدمی کی اور دشمن پر حملہ آور ہوئی۔دونوں طرف لڑائی شروع ہوئی تو اللہ نے ایک بدلی بھیجی۔مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے بارش ہوئی۔مسلمانوں کو اس سے قوت ملی۔ہر مُز نے حضرت خالد کے لیے ایک سازش تیار کی۔اس نے اپنے دفاعی دستے سے کہا کہ میں حضرت خالد کو مبارزت کی دعوت دیتا ہوں اور اس دوران کہ میں ان کو اپنے ساتھ مصروف رکھوں گا تم لوگ اچانک چپکے سے حضرت خالد پر حملہ کر دینا۔اس کے بعد ہر مُز میدان میں نکلا۔حضرت خالد اپنے گھوڑے سے اتر پڑے۔ہر مُز بھی اپنے گھوڑے سے اترا اور اس نے اتر حضرت خالد کو مقابلے کی دعوت دی۔حضرت خالد چل کر اس کی طرف آئے اور دونوں میں مقابلہ ہوا۔دونوں طرف سے وار ہونے لگے۔حضرت خالد نے ہر مز کو بھینچ لیا۔اس پر ہرمز کے دفاعی دستے نے خیانت سے کام لیتے ہوئے حضرت خالد پر حملہ کر دیا اور انہیں گھیرے میں لے لیا۔جب اس طرح ایک ایک کی لڑائی ہو رہی ہو تو پھر دوسرے حملہ نہیں کرتے لیکن بہر حال ان کی فوج نے ان پر حملہ کر دیا۔اس کے باوجو د حضرت خالد نے ہر مز کا کام تمام کر دیا۔حضرت قعقاع بن عمر ڈنے جیسے ہی ایرانیوں کی یہ خیانت دیکھی تو ہر مز کے دفاعی دستے پر حملہ کر دیا اور انہیں گھیرے میں لے کر موت کی نیند سلا دیا۔ایرانیوں کو شکست فاش ہوئی اور وہ بھاگ گئے۔بھاگنے والوں میں قباد اور انوشجان بھی تھے۔مسلمانوں نے رات کے اندھیرے میں ایرانیوں کا تعاقب کیا اور دریائے فرات کے بڑے پل تک جہاں آج کل بھرہ آباد ہے انہیں قتل کرتے چلے گئے۔جنگ کے اختتام پر حضرت خالد نے مالِ غنیمت جمع کرایا۔اس میں ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر زنجیریں بھی تھیں۔ان کا وزن ایک ہزار کل تھا یعنی زنجیروں کا تقریبا تین سو پچھتر کلو۔جو مالِ غنیمت حضرت ابو بکر کی طرف بھیجا