اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 240

اصحاب بدر جلد 2 240 حضرت ابو بکر صدیق دھکیل دیا۔شکست کھا کر وہ پیچھے ہٹ گئے۔حضرت شر خبیل بن حسنہ کو جب واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ جہاں تھے وہیں ٹھہر گئے۔حضرت ابو بکر نے شر خبیل کو لکھا کہ تم یمامہ کے قریب ہی مقیم رہو یہاں تک کہ تمہیں میرا دوسرا حکم موصول ہو۔573 574 اور حضرت ابو بکر نے حضرت عکرمہ کو یہ لکھا کہ میں اب تمہاری شکل نہیں دیکھوں گا، پہلے بھی بیان ہو چکا ہے ، اور نہ ہی تمہاری کوئی بات سنوں گا مگر بعد اس کے کہ تم کوئی کار ہائے نمایاں سر انجام دو۔کوئی غیر معمولی کام کر کے دکھاؤ پھر ٹھیک ہے ، پھر میرے پاس آنا۔پھر آپ نے فرمایا کہ تم عمان جاؤ اور اہل عمان سے لڑو اور حذیفہ اور عرفجہ کی مدد کرو۔بہر حال عثمان جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ خلیج فارس کا حصہ تھا جس میں ان دنوں آج کے متحدہ عرب امارات کے مشرقی علاقے بھی شامل تھے۔یہاں بت پرست قبیلہ ازد اور دیگر قبائل آباد تھے جو مجوسی تھے۔مسقط، ضحار اور دبا یہاں کے ساحلی شہر تھے۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں ہر ایک شخص اپنے گھڑ سواروں کا سردار رہے گا البتہ جب تک تم لوگ حذیفہ کے زیر نگرانی علاقے میں رہو گے وہ تم سب کے امیر ہوں گے۔جب تم لوگ فارغ ہو جاؤ تو پھر مھرہ چلے جانا، پھر وہاں سے یمن چلے جانا یہاں تک کہ یمن اور حضر موت کی کارروائیوں میں مہاجر بن ابو امیہ کے ساتھ رہنا اور عمان اور یمن کے درمیان جن لوگوں نے ارتداد اختیار کیا ہے ان کی سرکوبی کرنا اور مجھے جنگ میں تمہارے کار ہائے نمایاں کی خبر پہنچتی رہے۔یہ حضرت ابو بکر نے ارشاد فرمایا۔بہر حال تکریمہ کی روانگی سے قبل حضرت ابو بکر کی ہدایت کے مطابق حذیفہ بن محصن غلفانی عثمان اور عرفجہ بارقی مهرہ کے مرتدین سے لڑنے کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔حضرت ابو بکر کے حکم کے مطابق عکرمہ اپنی فوج کے ساتھ عرفجہ اور حذیفہ کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے اور قبل اس کے کہ وہ دونوں عمان پہنچتے عکرمہ ان سے جاملے۔اس سے قبل حضرت ابو بکر نے ان دونوں کو یہ تاکیدی حکم دے دیا تھا کہ عمان سے فارغ ہونے کے بعد وہ غیر مہ کی رائے پر عمل کریں چاہے وہ ان کو اپنے ساتھ لے لیں یا عمان میں ٹھہرنے کا حکم دیں۔بہر حال پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے جب یہ تینوں امیر عمان کے قریب ایک مقام رجام میں باہم جاملے تو انہوں نے جینفر اور عباد کے پاس اپنے پیامبر بھیجے اور دوسری طرف جب لقیط کو ان کی فوج کی آنے کی خبر ہوئی تو اس نے اپنی جماعتوں کو اکٹھا کیا اور دبا میں آکر پڑاؤ ڈالا۔جنیفر اور عباد بھی اپنی اپنی قیام گاہوں سے نکلے۔انہوں نے صحار میں آکر پڑاؤ کیا۔حذیفہ ، عرفجہ اور عکرمہ کو کہلا بھیجا کہ آپ سب ہمارے پاس آجائیں۔چنانچہ جیسا کہ ذکر ہوا ہے وہ سب ان دونوں کے پاس صحار میں جمع ہو گئے اور اپنے متصلہ علاقے کو مرتدین سے پاک کر دیا یہاں تک کہ اپنے قرب وجوار میں سب لوگوں سے صلح ہو گئی۔نیز ان امراء نے لقیط کے ساتھی سرداروں کو خطوط لکھے۔انہوں نے بنو جدید کے رئیس سے ابتدا کی۔اس کے جواب میں سرداروں نے بھی مسلمانوں کو خطوط لکھے۔جیسا کہ ذکر ہوا ہے اس کے نتیجہ میں سردار لقیط سے علیحدہ ہو گئے۔اس کے بعد لقیط کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کی شدید لڑائی ہوئی اور اس کی تفصیل پہلے آچکی ہے۔اس معرکے کے بعد غیر مہ اور