اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 239
اصحاب بدر جلد 2 239 حضرت ابو بکر صدیق 570 طاقت زیادہ ہو گئی تھی تو بہر حال یہ اپنی قیام گاہوں سے نکلے اور انہوں نے صحار میں آکر پڑاؤ کیا اور حذیفہ، عرفجہ اور عکرمہ کو کہلا بھیجا کہ آپ سب ہمارے پاس آجائیں۔صحار بھی عمان میں پہاڑوں سے متصل ایک قصبہ ہے۔اس کے بارے میں آتا ہے کہ عمان کا ایک بازار جو رجب کے شروع میں پانچ راتوں تک یہاں لگتا تھا۔چنانچہ مسلمانوں کا لشکر صحار میں جمع ہو گیا اور متصلہ علاقوں کو مرتدین سے پاک کر دیا۔ادھر لقبیط بن مالک کو اسلامی لشکر کے پہنچنے کی خبر ملی تو وہ اپنی فوج لے کر مقابلے کے لیے نکلا اور دبا کے مقام پر فروکش ہو ا۔اس نے عورتوں بچوں اور مال و متاع کو اپنے پیچھے رکھاتا کہ اس سے جنگ میں تقویت ملے۔دبا بھی اس علاقے کا شہر تھا اور تجارتی منڈی تھی۔مسلمان امراء نے لقیط کے ساتھی سر داروں کو خطوط لکھے اور اس کی ابتدا انہوں نے قبیلہ بنو جدید کے رئیس سے کی۔ان کے جواب میں ان سرداروں نے بھی مسلمان امراء کو خطوط لکھے۔اس مراسلت کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سب سردار لقیط سے علیحدہ ہو گئے۔اور مسلمانوں کے ساتھ آملے۔اسی جگہ یعنی دبا کے مقام پر لقیط کی فوج کے ساتھ پھر گھمسان کی جنگ ہوئی۔ابتدا میں لقیط کا پلہ بھاری رہا اور قریب تھا کہ مسلمانوں کو شکست ہو جاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے احسان فرمایا اور اس نازک گھڑی میں مدد نازل فرمائی۔بحرین کے مختلف قبائل اور بنو عبد القیس کی طرف سے بھاری کمک پہنچ گئی جس سے ان کی قوت اور طاقت میں اضافہ ہو گیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر لقیط کی فوج پر شدید حملہ کر دیا جس سے لقیط کی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور دس ہزار مقاتلین کو تہ تیغ کیا اور بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا۔مال و بازار پر قبضہ کر لیا اور اس کا مخمس عرفجہ کے ہاتھ حضرت ابو بکر کی خدمت میں روانہ کر دیا۔اس طرح عمان میں بھی اس فتنہ کا خاتمہ ہو گیا اور مسلمانوں کی حکومت پائیدار بنیادوں پر قائم ہو گئی۔جنگ کے بعد حذیفہ نے عمان ہی میں سکونت اختیار کر لی اور یہاں کے حالات کی درستی اور امن و امان قائم کرنے میں مصروف ہو گئے۔عرفجہ تو جیسا کہ ذکر ہو امالِ غنیمت لے کر مدینہ چلے گئے اور حضرت عکرمہ اپنے لشکر لے کر مہرہ کی بغاوت کا سد باب کرنے کے لیے روانہ ہو گئے۔571 حضرت عکرمہ کی مرتد باغیوں کے خلاف مہمات کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکڑ نے ایک جھنڈ ا حضرت عکرمہ کو دیا تھا اور ان کو مسیلمہ کے مقابلہ کا حکم دیا تھا۔572 حضرت ابو بکر نے عکرمہ کو مسیلمہ کے مقابلے کے لیے یمامہ کی طرف روانہ کیا اور ان کے پیچھے حضرت شر خبیل بن حسنہ کو بھی یمامہ بھیجا تھا۔حضرت ابو بکر نے ان دونوں کے لیے یمامہ کا نام لیا البتہ عکرمہ سے فرمایا کہ جب تک شر خبیل نہ پہنچ جائیں حملہ نہیں کرنا لیکن غیر مہ نے جلدی کی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اور شر خبیل کے آنے سے پہلے آگے بڑھ کر حملہ کر دیا اور مسیلمہ نے ان کو پیچھے