اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 241
حاب بدر جلد 2 241 حضرت ابو بکر صدیق حذیفہ اس رائے پر متفق ہوئے کہ حذیفہ عثمان میں ہی قیام کریں اور معاملات کو سلجھائیں اور لوگوں کو امن دلائیں اور حضرت عکرمہ مسلمانوں کی بڑی فوج کے ساتھ دوسرے مشرکین کی سرکوبی کے لیے آگے بڑھ گئے۔انہوں نے مھرہ سے اپنی جنگی کارروائی کی ابتدا کی۔575 حضرت عکرمہ کی مهره قبیلہ کی طرف پیش قدمی کے بارہ میں آتا ہے کہ عمان کے مرتدین کی سرکوبی سے فارغ ہونے کے بعد عکرمہ اپنے لشکر کے ہمراہ مسجد کے علاقے مہرہ قبیلہ کی طرف روانہ ہو گئے۔لکھا ہے کہ انہوں نے اہل عثمان اور عمان کے ارد گرد کے لوگوں سے اپنی اس مہم کے لیے مدد طلب کی۔وہ چلتے رہے یہاں تک کہ مہرہ قبیلے کے علاقے میں پہنچ گئے۔ان کے ساتھ مختلف قبائل کے لوگ تھے یہاں تک کہ عکرِ مہ نے مہرہ قبیلے اور اس کے مضافاتی علاقوں پر چڑھائی کر دی۔ان کے مقابلہ کے لیے مفرہ کے لوگ دو گروہوں میں تقسیم تھے۔ایک گروہ بمقام بیروت میں ایک شخص یخریت کی سر کردگی میں مورچہ زن تھا۔دوسر اگر وہ نجد میں بنو محارب کے ایک شخص مُصبح کی سر کردگی میں تھا۔دراصل تمام مهره اسی لشکر کے سردار کے تابع تھا سوائے شخریت اور اس کی جمعیت کے۔یہ دونوں سردار ایک دوسرے کے مخالف تھے اور ایک دوسرے کو اپنی طرف بلاتے تھے اور ان دونوں فوجوں میں سے ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ ان کے سردار کو ہی کامیابی حاصل ہو۔یہی وہ بات تھی جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور ان کو ان کے دشمنوں کے خلاف مضبوط کیا اور دشمنوں کو کمزور کر دیا۔جب نگر مہ نے شیخریت کے ہمراہ تھوڑی تعداد میں لوگ دیکھے تو انہوں نے اسے اسلام کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی۔یہ پہلے مسلمان تھا۔اسے کہا کہ دوبارہ مسلمان ہو جاؤ اور اب مسلمانوں سے جنگ نہ کرو۔چنانچہ اس ابتدائی تحریک پر ہی شیخریت نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا اور اس طرح اللہ نے مصبح کو کمزور کر دیا۔پھر ٹکر مہ نے مُصبح کی طرف پیغامبر بھیجا اور ایسے اسلام کی طرف واپس آنے اور کفر سے لوٹنے کی دعوت دی مگر اس کے ساتھ لوگوں کی جو کثیر تعداد تھی اس کثرت نے اس کو دھوکا دیا۔شیخریت کے اسلام لانے کی وجہ سے مُصبِّح اور شخرِیت میں دوری مزید بڑھ گئی۔بہر حال عکرمہ نے اس کی طرف پیش قدمی کی اور شیخیریت بھی آپ کے ساتھ تھا۔ان دونوں کا مسجد میں مُصبح کے ساتھ مقابلہ ہوا اور انہوں نے یہاں دبا سے بھی زیادہ شدید جنگ کی۔اللہ نے مرتد باغیوں کے لشکر کو شکست دی اور ان کا سر دار مارا گیا۔مسلمانوں نے بھاگنے والوں کا تعاقب کیا اور ان میں سے بہت سی تعداد کو قتل کیا اور بکثرت قیدی بنائے گئے اور مال غنیمت میں دو ہزار کی تعداد میں عمدہ نسل کی اونٹنیاں بھی مسلمانوں کے ہاتھ آئیں۔حضرت غیر مڈ نے مالِ غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا اور شیخریت کو خمس کے ساتھ حضرت ابو بکر کی طرف روانہ کر دیا۔باقی چار حصے انہوں نے مسلمانوں میں تقسیم کر دیے۔اس طرح عکرمہ کا لشکر سواریوں اور مال و متاع اور ساز و سامان کی وجہ سے مزید طاقتور ہو گیا۔حضرت عکرمہ نے وہیں قیام کر کے اس علاقے کے تمام لوگوں کو جمع کیا اور