اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 197

اصحاب بدر جلد 2 197 حضرت ابو بکر صدیق دیا۔پھر اس سے تو بہ کا مطالبہ کیا تو عیینہ نے خالص توبہ کا اعلان کیا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت پیش کی اور اسلام لا یا پھر اچھی طرح اسلام پر کار بند رہا۔485 طلیحہ اسدی کا اسلام قبول کرنا ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت اور باغی، طلیحہ اسدی نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔اس کے بارے میں لکھا طلیحہ اسدی کے اسلام لانے کا سبب یہ ہوا کہ جب اسے اطلاع ملی کہ قبیلہ اسد ، غطفان اور بنو عامر مسلمان ہو چکے ہیں تو وہ بھی مسلمان ہو گیا۔پھر وہ حضرت ابو بکر کی امارت میں عمرہ کرنے مکہ روانہ ہوا۔وہ مدینہ کے اطراف سے گزرا تو حضرت ابو بکر سے عرض کیا گیا یہ طلیحہ ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا میں اس کا کیا کروں ؟ اس کو چھوڑ دو۔یقیناً اللہ نے اسے اسلام کی طرف ہدایت دے دی ہے۔کا طلیحہ مکہ کی طرف گیا اور عمرہ ادا کیا۔پھر حضرت عمرؓ کے خلیفہ ہونے کے بعد ان کی بیعت کرنے آیا تو حضرت عمر نے اس سے کہا کہ تم عکاشہ اور ثابت کے قاتل ہو۔بخدا! میں کبھی تم کو پسند نہیں کر سکتا۔طلیحہ نے کہا اے امیر المومنین ! آپ ان دو شخصوں کا کیا غم کرتے ہیں جن کو اللہ نے میرے ہاتھوں سے عزت دی۔شہید ہوئے اور مجھے ان دونوں کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا۔یعنی میں ذلیل نہیں ہوا۔ان کے حملے سے مرا نہیں ورنہ میں جہنم میں جاتا اور آج میں اسلام قبول کر کے اللہ تعالیٰ کا فضل پانے والا بن رہا ہوں۔حضرت عمر نے اس سے بیعت لے لی اور کہا اے دھو کے باز ! تمہاری کہانت میں سے کیا باقی ہے ؟ یعنی تم کا ہن تھے اس میں سے ابھی بھی کچھ کہانت کا کام کرتے ہو ؟ اس نے کہا کہ ایک آدھ پھونک مار لیتا ہوں۔پھر وہ اپنی قوم کی قیام گاہ کی طرف آیا اور وہیں مقیم رہا۔عراق کی جنگوں میں طلیحہ نے ایرانیوں کے مقابلے میں کار ہائے نمایاں انجام دیے۔مسلمان ہونے کے بعد عراق کی جنگوں میں یہ لڑا اور اچھا لڑا اور جنگ نہاوند میں 21 ہجری میں شہید ہوا۔487 ام قرقہ کی بغاوت اور اس کی سرکوبی 486 حضرت خالد بن ولید کا ظفر، یہ ایک علاقہ ہے اس جانب جانا اور امم زمل سلمی بنت أم قرفہ کی طرف پیش قدمی۔ام زمل کا نام سلمیٰ بنت مالک بن حذیفہ تھا جو اپنی ماں اہم قرفہ بنت ربیعہ سے مشابہ تھی۔وہ عزت و شہرت میں اپنی ماں جیسی تھی اور اس کے پاس اہم قرفہ کا اونٹ بھی تھا۔488 ام قرفہ کا تعارف یہ ہے کہ اُم قرفہ کا نام فاطمہ بنت ربیعہ تھا اور وہ بنو فزارہ کی سردار تھی۔عورت اپنی قوت اور حفاظتی انتظامات کے طور پر ایک ضرب المثل مانی جاتی تھی۔اس کے گھر میں ہر وقت پچاس تلواریں آویزاں رہتی تھیں اور پچاس مردانِ شمشیر زن ہر وقت وہاں موجود ہوتے تھے۔یہ سب کے سب اس کے بیٹے اور پوتے تھے۔اس کے ایک بیٹے کا نام قرفہ تھا اس کی وجہ سے اس کی کنیت