اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 198
صحاب بدر جلد 2 198 حضرت ابو بکر صدیق ام قرفہ تھی جبکہ اس کا اصلی نام فاطمہ بنت ربیعہ تھا۔اس کا گھر وَادِی القُریٰ کی ایک جانب تھا جو مدینہ طیبہ سے سات رات کی مسافت پر تھا۔89 489 ام قرفہ کی طرف ایک سریہ چھ ہجری میں وقوع پذیر ہوا۔اتم قرفہ کی سرکوبی کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس نے مدینہ پر حملہ کرنے اور نبی کریم صلی اللہ ہم کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔اس بارے میں ایک مصنف نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ اس نے اپنے تئیں بیٹوں اور پوتوں کا ایک دستہ تیار کیا اور کہا کہ مدینہ پر چڑھائی کرو 491 اور حضور صلی ا ہم کو قتل کرو۔اس لیے مسلمانوں نے اس فتنہ باز عورت کو کیفر کردار تک پہنچادیا۔490 اس کا دوسر اسبب یہ تھا کہ حضرت زید بن حارثہ تجارت کی غرض سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔ان کے پاس دیگر صحابہ کرام کے اموال تجارت تھے۔جب وادی القریٰ پہنچے تو قبیلہ فزارہ کی شاخ بنو بدر کے بہت سے آدمی نکل آئے۔انہوں نے حضرت زید اور ان کے ساتھیوں کو سخت مارا پیٹا اور سارا سامان بھی چھین لیا۔انہوں نے واپس آکر بار گاہِ رسالت میں یہ واقعہ عرض کیا۔نبی کریم صلی للہ ہم نے ایک لشکر اُن کے ساتھ بھیجا تا کہ ان لٹیروں کی گوشمالی کہ انتم قرفہ کی بیٹی اتم زمل سلمی کا واقعہ یوں ہے کہ غطفان، کے ، سلیم اور ہوازن کے بعض لوگ جنہوں نے بُزاخہ میں حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں شکست کھائی تھی، بھاگ کر اتم زمل سلمیٰ بنت مالک کے پاس پہنچے اور وعدہ کیا کہ اس کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کرتے ہوئے جانیں قربان کر دیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔غطفان کے شکست خوردہ لوگ ظفر میں جمع ہو گئے۔یہ ظفر جو ہے بصری اور مدینہ کے راستے پر ایک مقام ہے۔یہ خواب کے قریب ایک مقام ہے۔حواب بھی مدینہ اور بصری کے راستے پر ایک جگہ ہے اور وہاں ایک کنواں ہے۔وہاں ام زمل سلمیٰ نے ان لوگوں کو ان کی شکست پر غیرت دلائی اور جنگ کا حکم دیا اور پھر خود بھی مختلف قبائل میں بار بار چکر لگا کر ان کو حضرت خالد سے جنگ کے لیے اکسایا یہاں تک کہ وہ لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور جنگ کے لیے دلیر ہو گئے۔یہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے بھڑ کانے والی تھی اور ہر طرف سے بھٹکے ہوئے لوگ اس کے پاس آگئے۔اس سے قبل اہم قرفہ کی زندگی میں یہ اتم زمل سلمی قید ہو کر حضرت عائشہ کو ملی تھی۔انہوں نے اسے آزاد کر دیا تھا۔یہ کچھ عرصہ ان کے پاس رہی پھر اپنی قوم میں چلی آئی۔وہاں جا کے مرتد ہو گئی۔493 492 تحصیل، جب حضرت خالد کو اس کی اطلاع ہوئی وہ اس وقت مجرموں کی گرفتاری، زکوۃ کی دعوتِ اسلام اور لوگوں کی تسکین میں منہمک تھے تو اُتم زمل سلمی کے مقابلہ کے لیے بڑھے جس کی شوکت اور طاقت بہت بڑھ چکی تھی اور اس کا معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا تھا۔پس حضرت خالد اس کے اور اس کی جمعیتوں سے مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔نہایت شدید جنگ ہوئی۔اتم زمل سلمی اس وقت اپنی ماں کی طرح بڑی شان سے اپنی ماں کے اونٹ پر سوار تھی اور دونوں لشکروں کے درمیان