اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 196

اصحاب بدر جلد 2 196 حضرت ابو بکر صدیق اس کی جزائے خیر دے۔تم اپنے ہر کام میں اللہ سے ڈرتے رہو۔إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (الحل : 129) یقیناً اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان کرنے والے ہیں۔تم اللہ کے کام میں پوری جدوجہد کرنا اور تساہل نہ کرنا۔جس شخص نے کسی مسلمان کو مارا ہو اور وہ تمہارے ہاتھ لگ جائے تو اس کو ضرور قتل کر دو اور اس طرح قتل کرو کہ دوسرے عبرت پکڑیں۔وہ لوگ جنہوں نے خدا کے حکم سے نافرمانی کی ہو اور اسلام کے دشمن ہوں ان کے قتل سے اگر اسلام کو فائدہ پہنچتا ہو تو قتل کر سکتے ہو۔حضرت خالد ایک ماہ بُرائہ میں فروکش رہے اور اس قسم کے لوگوں کی تلاش میں ہر طرف چھاپے مار کر ان لوگوں کو گرفتار کرتے رہے۔483 اور یوں حضرت ابو بکر صدیق کی ہدایت کے مطابق ان لوگوں کو سخت سزائیں دیں۔قره بن هبيره اور عیینہ بن حصن کے قید ہو کر مدینہ آنے کے متعلق تاریخ طبری میں اس طرح ذکر آتا ہے کہ حضرت خالد نے بنو عامر کے معاملے کا تصفیہ کر کے جب ان سے بیعت لے لی اور عيينه بن حصن اور قره بن شبیرہ کو قید کر کے حضرت ابو بکر کے پاس بھیج دیا اور جب یہ حضرت ابو بکر کے سامنے آئے تو قرہ نے کہا کہ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں مسلمان ہوں۔حضرت عمر و بن عاص میرے اسلام کے گواہ ہیں۔جب وہ میرے پاس سفر کے دوران آئے میں نے ان کو اپنا مہمان بنایا، ان کی تعظیم و تکریم کی اور ان کی حفاظت کی۔حضرت ابو بکر نے حضرت عمرو بن عاص کو بلا کر اس کی ہو۔تصدیق چاہی۔حضرت عمرو نے تمام واقعہ بیان کیا اور جو کچھ قرہ نے کہا تھا وہ بتایا اور جب وہ زکوۃ کے متعلق اس کی گفتگو کو بیان کرنے لگے تو قرہ نے کہا بس کیجیے آگے بیان نہ کریں۔اس پر انہوں نے کہا اللہ کی رحمت حضرت عمر و نے کہا یہ نہیں ہو سکتا۔میں تو پوری بات حضرت ابو بکر سے بیان کروں گا۔چنانچہ انہوں نے تمام گفتگو بیان کر دی۔قرہ نے زکوۃ کے حوالے سے پہلے کہا تھا کہ اس کے مطالبہ کو ختم کر دیں تو عرب بات سنیں گے یعنی زکوۃ نہ کی جائے۔اس پر حضرت عمر نے کہا گو یاتم کافر ہو چکے تو نہ نے کہا پھر آپ زکوۃ کے مطالبے کا ایک وقت مقرر کر دیں تو ہم لوگ مل کر فیصلہ کر لیں گے کہ زکوۃ دینی ہے کہ نہیں دینی۔حضرت ابو بکڑ نے اس سے در گزر کیا۔بہر حال اس کی باتیں سننے کے باوجو د حضرت ابو بکر نے اس سے در گزر کیا اور اس کی جان بخشی کر دی۔عیینہ بن حصن اس حالت میں مدینہ آیا کہ اس کے دونوں ہاتھ رسی سے اس کی گردن پر بندھے تھے۔مدینہ کے لڑکے اسے کھجور کی شاخیں چھو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے دشمن ! کیا ایمان لانے کے بعد تو کافر ہو گیا ہے ؟ تو اُس نے کہا بخدا ! میں آج کے دن تک کبھی اللہ پر ایمان ہی نہیں ھی لہلہ پر ایمانی ہیں لایا تھا۔حضرت ابو بکر نے اس سے در گزر کیا اور اس کی بھی جان بخشی کر دی۔14 ایک اور مصنف لکھتے ہیں کہ عیینہ کو خلیفہ رسول صلی علی یکم ابو بکرے کے پاس حاضر کیا گیا۔اس نے حضرت ابو بکڑ سے عفو و در گزر کا ایسا برتاؤ پایا جس کا اس کو یقین نہ تھا۔آپ نے اس کے ہاتھ کھولنے کا حکم 484