اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 179
باب بدر جلد 2 179 حضرت ابو بکر صدیق رسول اللہ صلی الیکم نے وفات پائی تو اسلام اور مسلمانوں پر مصائب ٹوٹ پڑے۔بہت سے منافق مرتد ہو گئے اور مرتدوں کی زبانیں دراز ہو گئیں اور افترا پردازوں کے ایک گروہ نے دعوی نبوت کر دیا اور اکثر بادیہ نشین ان کے گرد جمع ہو گئے یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ ایک لاکھ کے قریب جاہل اور بد کردار آدمی مل گئے اور فتنے بھڑک اٹھے اور مصائب بڑھ گئے۔اور آفات نے دور و نزدیک کا احاطہ کر لیا۔اور مومنوں پر ایک شدید زلزلہ طاری ہو گیا۔اس وقت تمام لوگ آزمائے گئے اور خوفناک اور حواس باختہ کرنے والے حالات نمودار ہو گئے اور مومن ایسے لاچار تھے کہ گویا ان کے دلوں میں آگ کے انگارے دہکائے گئے ہوں یا وہ چھری سے ذبح کر دیئے گئے ہوں۔کبھی تو وہ خَيْرُ الْبَرِيَّة (صلى الل) کی جدائی کی وجہ سے اور گاہے ان فتنوں کے باعث جو جلا کر بھسم کر دینے والی آگ کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے روتے۔امن کا شائبہ تک نہ تھا۔فتنہ پرداز گند کے ڈھیر پر اُگے ہوئے سبزے کی طرح چھا گئے تھے۔مومنوں کا خوف اور ان کی گھبر بہت بہت بڑھ گئی تھی۔اور دل دہشت اور بے چینی سے لبریز تھے۔ایسے ( نازک) وقت میں (حضرت) ابو بکر رضی اللہ عنہ حاکم وقت اور (حضرت) خاتم النبیین کے خلیفہ بنائے گئے۔منافقوں، کافروں اور مرتدوں کے جن رویوں اور طور طریقوں کا آپ نے مشاہدہ کیا ان سے آپ ہم و غم میں ڈوب گئے۔آپ اس طرح روتے جیسے ساون کی جھڑی لگی ہو اور آپ کے آنسو چشمہ کرواں کی طرح بہنے لگتے اور آپ (رضی اللہ عنہ ) (اپنے) اللہ سے اسلام اور مسلمانوں کی خیر کی دعا مانگتے۔(حضرت) عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔آپ فرماتی ہیں کہ جب میرے والد خلیفہ بنائے گئے اور اللہ نے انہیں امارت تفویض فرمائی تو خلافت کے آغاز ہی میں آپ نے ہر طرف سے فتنوں کو موجزن اور جھوٹے مدعیان نبوت کی سرگرمیوں اور منافق مرتدوں کی بغاوت کو دیکھا اور آپ پر اتنے مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ پہاڑوں پر ٹوٹتے تو وہ پیوست زمین ہو جاتے اور فوراً گر کر ریزہ ریزہ ہو جاتے لیکن آپ کو رسولوں جیسا صبر عطا کیا گیا۔“ حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں ” یہاں تک کہ اللہ کی نصرت آن پہنچی اور جھوٹے نبی قتل اور مرتد ہلاک کر دیئے گئے۔فتنے دور کر دیئے گئے اور مصائب چھٹ گئے اور معاملے کا فیصلہ ہو گیا اور خلافت کا معاملہ مستحکم ہوا اور اللہ نے مومنوں کو آفت سے بچالیا اور ان کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اور ان کے لیے ان کے دین کو تمکنت بخشی اور ایک جہان کو حق پر قائم کر دیا اور مفسدوں کے چہرے کالے کر دیئے۔اور اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے (حضرت ابو بکر صدیق کی نصرت فرمائی اور سرکش سر داروں اور بتوں کو تباہ و برباد کر دیا۔اور کفار کے دلوں میں ایسار عب ڈال دیا کہ وہ پسپا ہو گئے اور (آخر ) انہوں نے رجوع کر کے توبہ کی اور یہی خدائے قہار کا وعدہ تھا اور وہ سب صادقوں سے بڑھ کر صادق ہے۔پس غور کر کہ کس طرح خلافت کا وعدہ اپنے پورے لوازمات اور علامات کے ساتھ (حضرت ابو بکر ) صدیق کی ذات میں پورا ہوا۔میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس تحقیق کی خاطر تمہارا سینہ کھول دے۔“