اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 178
حاب بدر جلد 2 178 حضرت ابو بکر صدیق ایک مصنف لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کے پیش نظر ان مرتدین کی سرکوبی تھی جو عرب کے مختلف خطوں میں بغاوت کے شعلوں کو ہوا دے رہے تھے اور ان کے ہاتھوں شمع اسلام اور ان کے 454 پروانوں کو سخت خطرہ لاحق تھا۔4 پھر ایک مصنف لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم کی وفات کے بعد بہت سے سردارانِ عرب مر تذ ہو گئے اور ہر ایک اپنے اپنے علاقے میں خود مختار ہو گیا۔محققین کے مطابق یہ ارتداد زیادہ تر سیاسی تھا۔دینی ارتداد بہت ہی کم تھا۔نبی کریم صلی للی کم کی اس دنیوی زندگی کے آخری ایام میں عرب کے کچھ قبائل 455 کے لیڈروں نے اپنی بغاوت کی سیاسی تحریک کو مذہبی رنگ دینے کے لیے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ان تاریخی حوالوں کا خلاصہ یہی ہے کہ مرتد ہونے والے قبائل نے اموال زکوۃ روک لیے تھے یعنی حکومت کا ٹیکس جبر آروک لیا تھا۔بعض جگہ سے اموالِ زکوۃ کو لوٹ لیا تھا۔فوجیں تیار کیں۔دار الخلافہ مدینہ پر حملے کیے۔جن مسلمانوں نے ارتداد سے انکار کیا ان کو قتل کر دیا۔بعض کو زندہ آگ میں جلا دیا۔لہذا ایسے مرتدین حکومت کے خلاف مسلح بغاوت، حکومت کے اموال کو لوٹنے اور مسلمانوں کو قتل کرنے اور انہیں زندہ جلا دینے کی بنا پر قتل کی سزا کے مستحق ہو چکے تھے۔جیسا کہ قرآن پاک فرماتا ہے جَزَاءُ سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری:41) کہ مجرم جیسا کہ جرم کرے اس کو ویسی ہی سزا دو۔ایک اور جگہ فرمایا إِنَّمَا جَزَوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَونَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ (المائدة:34) که جو لوگ اللہ اور رسول سے جنگ کریں یعنی جس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ رسول اور خلیفۃ الرسول یا اسلامی حکومت کے ساتھ جنگ کریں کیونکہ اللہ کے ساتھ لڑائی نہیں ہو سکتی۔اللہ کو نہ تھپڑ مارا جا سکتا ہے نہ پتھر نہ تیر نہ تلوار۔اس لیے ان سے جنگ کرنے سے مراد ہے۔وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ اور رسول سے جنگ سے کیا مراد ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول سے جنگ کرتے ہیں یعنی ملک میں فساد کرتے ہیں۔قتل و غارت ، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، مسلح بغاوت کرتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ يُقتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا انہیں سختی سے قتل کیا جائے یا صلیب پر مار دیا جائے۔456 مرتدین کو حضرت ابو بکر صدیق نے سزا ان کے ارتداد کی وجہ سے نہیں دی تھی بلکہ بغاوت اور جنگ کی وجہ سے ان کو جواب دیا گیا تھا۔اس بارے میں زمانے کے حکم و عدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی حضرت ابو بکر صدیق کے عہد خلافت میں اس ارتداد کو سرکشی اور بغاوت سے تعبیر کیا ہے۔چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے کہ حضرت ابو بکر کی جرآت اور دلیری کتنی تھی آپ فرماتے ہیں کہ اہل تحقیق سے یہ امر مخفی نہیں کہ آپ کی خلافت کا وقت خوف اور مصائب کا وقت تھا۔چنانچہ جب