اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 180
حاب بدر جلد 2 180 حضرت ابو بکر صدیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ غور کرو کہ آپ کے خلیفہ ہونے کے وقت مسلمانوں کی کیا حالت تھی۔اسلام مصائب کی وجہ سے آگ سے جلے ہوئے شخص کی طرح (نازک حالت میں ) تھا۔پھر اللہ نے اسلام کو اس کی طاقت لوٹا دی اور اسے گہرے کنویں سے نکالا اور جھوٹے مدعیان نبوت درد ناک عذاب سے مارے گئے اور مرتد چوپاؤں کی طرح ہلاک کئے گئے اور اللہ نے مومنوں کو اس خوف سے جس میں وہ مردوں کی طرح تھے امن عطا فرمایا۔اس تکلیف کے رفع ہونے کے بعد مومن خوش ہوتے تھے اور ( حضرت ابو بکر صدیق کو مبارک باد دیتے اور مرحبا کہتے ہوئے ان سے ملتے تھے۔آپ کی تعریف کرتے اور رب الارباب کی بار گاہ سے آپ کے لئے دعائیں کرتے تھے۔آپ کی تعظیم اور تکریم کے آداب بجالانے کے لئے لپکتے تھے۔اور انہوں نے آپ کی محبت کو اپنے دل کی گہرائی میں داخل کر لیا اور وہ اپنے تمام معاملات میں آپ کی پیروی کرتے تھے اور وہ آپ کے شکر گزار تھے۔انہوں نے اپنے دلوں کو روشن اور چہروں کو شاداب کیا اور وہ محبت و الفت میں بڑھ گئے اور پوری جدو جہد سے آپ کی اطاعت کی۔وہ آپ کو ایک مبارک وجود اور نبیوں کی طرح تائید یافتہ سمجھتے تھے۔اور یہ سب کچھ (حضرت ابو بکر صدیق کے صدق اور گہرے یقین کی وجہ سے تھا۔4574 یہ ستر الخلافہ آپ کی عربی میں کتاب ہے۔یہ اس عربی کا اردو ترجمہ ہے۔فتنہ ارتداد اور بغاوت جب ہوا ہے تو اس کی طرف آپؐ نے بعض مہمات بھیجی تھیں جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی علیم کی وفات کے بعد تقریباً سارے عرب نے ہی ارتداد اختیار کر لیا تھا۔کچھ لوگ تو وہ تھے جنہوں نے صرف زکوۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ان کے خلاف جو کارروائیاں حضرت ابو بکر کی طرف سے کی گئیں ان کا تذکرہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔مرتد باغیوں کی سرکوبی کے لئے حضرت ابو بکر کا دلیرانہ عزم اب دوسرے گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے نہ صرف اسلام سے ارتداد اختیار کر لیا تھا بلکہ بغاوت کر دی تھی اور مسلمانوں کو قتل بھی کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر نے ان کی خبر لینے کا عزم فرمایا چنانچہ بداية والنهاية میں لکھا ہے کہ حضرت اسامہ کے لشکر کے آرام کرنے کے بعد حضرت ابو بکر اسلامی افواج کے ساتھ تلوار سونتے ہوئے مدینہ سے سوار ہو کر ذوالقصہ کی طرف روانہ ہوئے جو مدینہ سے اس زمانے میں جو سفر کا ذریعہ تھا اس کے مطابق ایک رات اور ایک دن کے فاصلے پر واقع ہے۔صحابہ کرام جن میں حضرت علی بھی تھے وہ آپ سے اصرار کر رہے تھے کہ آپ مدینہ واپس تشریف لے جائیں اور اعراب سے جنگ کے لیے اپنے سوا کسی دوسرے بہادر کو بھیج دیں۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ میرے والد تلوار سونتے ہوئے سواری پر سوار ہو کر روانہ ہوئے تو حضرت علی بن ابی طالب نے آ کر آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور عرض کیا: اے خلیفہ کر سول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے وہ بات کہتا