اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 158

حاب بدر جلد 2 158 حضرت ابو بکر صدیق یہ ان کا اپنا زعم تھا کہ اس طرح ہم قبضہ کر لیں گے۔بہر حال ان لوگوں نے واپس جا کر اپنے قبائل سے کہا کہ اس وقت مدینہ میں بہت کم آدمی ہیں اور انہیں حملہ کرنے کی ترغیب دلائی جبکہ دوسری طرف حضرت ابو بکر بھی غافل نہ تھے۔انہوں نے اس وفد کے جانے کے بعد مدینہ کے تمام ناکوں پر با قاعدہ پہرے متعین کر دیے۔حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اس کام پر مقرر کیے گئے۔ایک روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا نام بھی آتا ہے کہ یہ بھی ناکے پر پہرے کے لیے متعین کیے گئے۔اس کے علاوہ حضرت ابو بکر نے تمام اہل مدینہ کو حکم دیا کہ وہ مسجد میں جمع ہوں اور پھر ان سے فرمایا کہ تمام سر زمین کا فر ہو گئی ہے اور ان لوگوں کے وفود تمہاری قلت تعداد کو دیکھ گئے ہیں اور تم لوگ نہیں جانتے کہ وہ دن کے وقت یارات میں تم پر حملہ آور ہوں گے۔ان لوگوں کی سب سے قریب جماعت یہاں سے صرف ایک برید کے فاصلے پر ہے۔برید بارہ میل کے برابر ہوتا ہے کہ بارہ میل کے فاصلے پر ہے اور کچھ لوگ خواہش رکھتے تھے کہ ہم ان کی شرائط قبول کر لیں اور ان سے مصالحت کر لیں مگر ہم نے ان کی بات نہ مانی اور ان کی شرائط مسترد کر دیں۔لہذا اب مقابلے کے لیے بالکل تیار ہو جاؤ۔حضرت ابو بکر کا اندازہ بالکل درست نکلا اور منکرین زکوۃ کے وفد کے مدینہ سے واپس جانے کے بعد صرف تین راتیں گزری تھیں کہ ان لوگوں نے رات ہوتے ہی مدینہ پر حملہ کر دیا۔اپنے ساتھیوں میں سے ایک جماعت کو وہ ذُو حِسی چھوڑ آئے تا کہ وہ بوقت ضرورت کمک کا کام دیں۔ذُو حِسی بنو فزارہ کے پانیوں میں سے ایک ہے اور یہ ربذہ اور محل کے درمیان ہے۔بہر حال یہ حملہ کرنے والے رات کے وقت مدینہ کے ناکوں پر پہنچے۔وہاں پہلے سے جنگجو متعین تھے۔ان کے عقب میں کچھ اور لوگ تھے جو بلندی پر چڑھ رہے تھے۔پہرے داروں نے ان لوگوں کو دشمن کی یورش سے آگاہ کیا اور حضرت ابو بکر کو دشمن کی پیش قدمی کی اطلاع دینے کے لیے آدمی دوڑائے۔حضرت ابو بکر نے یہ پیغام بھجوایا کہ سب اپنی اپنی جگہ پر جمے رہیں جس پر تمام فوج نے ایسا کیا۔پھر حضرت ابو بکر مسجد میں موجود مسلمانوں کو لے کر اونٹوں پر سوار ہو کر ان کی طرف روانہ ہوئے اور دشمن پسپا ہو گیا۔مسلمانوں نے اپنے اونٹوں پر ان کا تعاقب کیا یہاں تک کہ وہ ذُو حِسی جا پہنچے۔حملہ آوروں کی کمک والا گروہ چمڑے کے مشکیزوں میں ہوا بھر کر اور ان میں رسیاں باندھ کر مسلمانوں کے مقابلے کے لیے نکلا اور انہوں نے ان مشکیزوں کو اپنے پیروں سے ضرب لگا کر اونٹوں کے سامنے لڑھکا دیا اور چونکہ اونٹ اس سے سب سے زیادہ بد کتا ہے کہ مشکیزے، لڑھکتی ہوئی چیز آ رہی ہے اس لیے مسلمانوں کے تمام اونٹ ان سے اس طرح بدک کر بھاگے کہ وہ مسلمانوں سے جو اُن پر سوار تھے کسی طرح بھی سنبھل نہ سکے یہاں تک کہ وہ مدینہ پہنچ گئے۔البتہ اس سے مسلمانوں کا کوئی نقصان نہ ہوا اور نہ ان کے ہاتھ کوئی چیز آئی۔مسلمانوں کی اس بظاہر پسپائی سے دشمنوں کو یہ گمان ہوا کہ مسلمان کمزور ہیں ان میں مقابلے کی