اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 159
اصحاب بدر جلد 2 159 حضرت ابو بکر صدیق طاقت نہیں ہے۔اس خام خیالی میں انہوں نے اپنے ان ساتھیوں کو جو ذُوالقصّہ میں فروکش تھے اس واقعہ کی اطلاع دی وہ اس خبر پر بھروسہ کر کے اس جماعت کے پاس آگئے مگر ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ نے ان کے متعلق کچھ اور ہی فیصلہ کیا ہے جس کو وہ بہر حال نافذ کر کے چھوڑے گا۔رات بھر حضرت ابو بکر اپنی فوج کی تیاری میں مصروف رہے اور سب کو تیار کر کے رات کے پچھلے پہر پوری فوج کو ترتیب دے کر پیدل روانہ ہوئے۔نعمان بن مُقَوّن میمنہ پر ، عبد الله بن مقرن میسرہ پر اور سُويد بن مقرن فوج کے پچھلے حصہ پر نگران تھے۔ان کے ساتھ کچھ سوار بھی تھے۔ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی تھی کہ مسلمان اور منکرین زکوۃ ایک ہی میدان میں تھے۔مسلمانوں کی کوئی آہٹ اور بھنک بھی نہ ان کو مل سکی کہ مسلمانوں نے ان کو تلوار کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیا۔پھر رات کے پچھلے پہر میں لڑائی ہوئی۔آفتاب کی کرن نے ابھی مطلع افق کو اپنے جلوے سے منور نہیں کیا تھا کہ منکرین نے شکست کھا کر راہ فرار اختیار کی۔پھر لکھا ہے کہ مسلمانوں نے ان کے تمام جانوروں پر قبضہ کر لیا۔اس واقعہ میں حِبال مارا گیا۔حضرت ابو بکر نے ان لوگوں کا تعاقب کیا یہاں تک کہ ذُوالقصہ پہنچ کر ٹھہرے۔یہ پہلی فتح تھی جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دی۔حضرت ابو بکر نے نُعمان بن مقرن کو کچھ لوگوں کے ساتھ وہیں متعین کر دیا اور خود مدینہ واپس تشریف لے آئے۔یہ تاریخ طبری کا حوالہ ہے۔" اس جنگ کو غزوہ بدر سے مشابہت دیتے ہوئے ایک مصنف لکھتے ہیں کہ اس موقع پر ابو بکر نے ایمان ویقین، عزم و ثبات اور حزم و احتیاط کا جو مظاہرہ کیا اس سے مسلمانوں کے دل میں عہد رسول اللہ صلی ال نیم کے غزوات کی یاد تازہ ہو گئی۔ابو بکرؓ کے عہد کی یہ پہلی لڑائی بڑی حد تک جنگ بدر سے مشابہ ہے۔جنگ بدر کے روز مسلمان صرف تین سو تیرہ کی قلیل تعداد میں تھے جبکہ مشرکین مکہ کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی۔حضرت ابو بکر کے ساتھ مخالفین سے جنگ کا جو یہ واقعہ پیش آیا اس موقع پر بھی مسلمانوں کی تعداد بہت قلیل تھی اس کے بالمقابل عبس، ڈبیان اور غطفان کے قبائل بھاری جمعیت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے۔بدر کے موقع پر انہیں اللہ نے مشرکین پر فتح عطا فرمائی۔اس موقع پر ابو بکر اور آپ کے ساتھیوں نے ایمان کامل کا ثبوت دیا اور دشمن پر فتح حاصل کی۔جس طرح جنگ بدر دور رس نتائج کی حامل تھی اسی طرح اس جنگ میں بھی مسلمانوں کی فتح نے اسلام کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالا۔418 417 بنو ذُبيان اور بنو عبس نے اس شکست کی وجہ سے غیض و غضب میں آکر اپنے ہاں موجود مسلمانوں پر اچانک حملہ کر کے ان کو نہایت بے دردی سے طرح طرح کے عذاب دے کر شہید کر ڈالا۔انہوں نے یہ بدلہ لیا کہ جو نہتے مسلمان ان کے علاقوں میں رہتے تھے ان کو مار دیا، شہید کر دیا اور ان کی تقلید میں دوسرے قبائل نے بھی ایسا ہی کیا۔ان مظالم کی اطلاع پر حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ وہ مشرکین کو خوب اچھی طرح قتل کریں گے اور ہر قبیلے میں سے جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا تھا انہیں