اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 157
صحاب بدر جلد 2 157 حضرت ابو بکر صدیق لوگ سميراء کے مقام پر جمع ہوئے سمیراء جو ہے یہ قوم عاد کے ایک شخص کے نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا ہے اور یہ مکہ کے راستے پر ایک قوم ہے۔اس علاقے کے ارد گرد سیاہ رنگ کے پہاڑ ہیں جن کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے فَزَارَہ اور غطفان کے لوگ اپنے حلیفوں کے ساتھ طیبہ کے جنوب میں جمع ہوئے۔کئی اپنے علاقے کی سرحد پر جمع ہوئے۔ثَعْلَبہ بن سعد اور مرّة اور عبس میں سے ان کے حمایتی ربذہ کے مقام ابرق میں جمع ہوئے۔ربذہ بھی تین دن کی مسافت پر مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے۔ابرق الربلة قبیلہ بنو ڈ بیان کی جگہوں میں سے تھی۔بنو کنانہ کے کچھ لوگ بھی ان سے آملے مگر وہ علاقے ان کے متحمل نہ ہو سکے اس لیے ان لوگوں کی دو جماعتیں ہو گئیں۔ایک جماعت آئبرق میں مقیم رہی اور دوسری ذُو القصّہ چلی گئی۔ذُو القصہ بھی مدینہ سے چالیس میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے۔طلیحہ نے حبال کو ان کی مدد کے لیے بھیجا۔حبال طلیحہ کے بھائی کا بیٹا تھا۔بہر حال اس طرح حِبال ، ذُو القصّہ والوں کا سردار بن گیا جہاں اسد اور کیث، دیل اور مدبلج قبائل میں سے ان کے حمایتی بھی تھے۔عوف بن فُلان بن سنان، انبرق مقام میں موجود مُرہ قبیلہ کا سردار مقرر ہوا اور ثعلبہ اور عبس قبائل پر حارث بن فُلان سردار مقرر ہو ا جو بَنُوسُبَیع میں سے تھا۔ان قبائل نے اپنے وفد بھیجے جو مدینہ آئے۔یہ سب جمع ہوئے اس کے بعد ہر ایک قبیلے نے اپنا اپنا ایک وفد بنا کے بھیجا۔وہ لوگ جو آئے تھے وہ عمائدین مدینہ کے ہاں فروکش ہوئے، وہاں ٹھہرے۔حضرت عباس کے علاوہ سب نے ان کو اپنے ہاں مہمان بنایا اور ان کو ابو بکر کی خدمت میں اس شرط پر لے کر آئے کہ وہ نماز پڑھتے رہیں گے مگر ز کوۃ نہ دیں گے۔اللہ نے ابو بکر کو حق پر راسخ کر دیا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: اگر یہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی نہ دیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔415 مانعین زکوۃ اور باغیوں کا مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ حضرت ابو بکر نیا موقف دیکھ کر جب مانعین زکوۃ کے وفود مدینہ سے واپس جانے لگے تو اس وقت ان لوگوں کی کیا کیفیت تھی، اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک سیرت نگار لکھتے ہیں کہ ان وفود نے جب آپؐ کا عزم دیکھا تو مدینہ سے واپس ہو گئے لیکن مدینہ سے جاتے وقت دو باتیں ان کے ذہن میں تھیں۔نمبر ایک یہ کہ منع زکوۃ کے سلسلہ میں کوئی گفتگو کارگر نہیں۔اس سلسلہ میں اسلام کا حکم واضح ہے اور خلیفہ کی اپنی رائے اور عزم سے پیچھے ہٹنے کی کوئی امید نہیں۔خاص کر جب کہ مسلمان دلیل کے واضح ہونے کے بعد آپ کی رائے سے متفق ہو چکے ہیں اور حضرت ابو بکر کی تائید کے لیے کمر بستہ ہیں۔نمبر دو بزعم خویش مسلمانوں کی کمزوری اور قلت تعداد کو غنیمت جانتے ہوئے مدینہ پر ایسا زور دار حملہ کیا جائے جس سے اسلامی حکومت گر جائے اور اس دین کا خاتمہ ہو جائے۔416