اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 127
اصحاب بدر جلد 2 127 حضرت ابو بکر صدیق گئے ہیں اور میرے پاؤں کانپ گئے اور میں زمین پر گر گیا۔یہ بیان کر کے حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں که یہ ایک ہی اجماع صحابہ کا ہے کیونکہ اس وقت سارے صحابہ موجود تھے اور در حقیقت ایسا وقت مسلمانوں پر پہلے کبھی نہیں آیا کیونکہ پھر کبھی مسلمان اس طرح جمع نہیں ہوئے۔اس اجتماع میں حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی کہ محمد رسول اللہ صلی علیکم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے جس قدر اللہ تعالی کے رسول آئے ہیں وہ سب کے سب فوت ہو چکے ہیں۔پس آپ کا فوت ہونا بھی کوئی قابلِ تعجب بات نہیں اور سارے کے سارے صحابہ نے آپ کے ساتھ اتفاق کیا۔341 ابو بکر صدیق کا اس امت پر اتنابڑا احسان ہے کہ اس کا شکر نہیں ہو سکتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی حضرت ابو بکر کے حوالے سے اسی بات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اس امت پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کا شکر نہیں ہو سکتا۔اگر وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد نبوی میں اکٹھے کر کے یہ آیت نہ سناتے کہ تمام گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تو یہ امت ہلاک ہو جاتی کیونکہ ایسی صورت میں اس زمانے کے مفسد علماء یہی کہتے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں مگر اب صدیق اکبر کی آیت ممدوحہ پیش کرنے سے اس بات پر گل صحابہ کا اجماع ہو چکا کہ کل گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں بلکہ اس اجماع پر شعر بنائے گئے۔ابو بکر کی روح پر خدا تعالیٰ ہزاروں رحمتوں کی بارش کرے اس نے تمام روحوں کو ہلاکت سے بچالیا اور اس اجماع میں تمام صحابہ شریک تھے۔ایک فرد بھی ان میں سے باہر نہ تھا۔اور یہ صحابہ کا پہلا اجماع تھا اور نہایت قابل شکر کارروائی تھی۔اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور مسیح موعود کی باہم ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ قرآن شریف میں دونوں کی نسبت یہ تھا کہ جب ایک خوف کی حالت اسلام پر طاری ہو گی اور سلسلہ مرتد ہونے کا شروع ہو گا تب ان کا ظہور ہو گا سو حضرت ابو بکر اور مسیح موعود کے وقت میں ایسا ہی ہوا۔یعنی حضرت ابو بکر کے وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدہا جاہل عرب مرتد ہو گئے تھے۔اور صرف دو مسجدیں باقی تھیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی۔حضرت ابو بکر نے دوبارہ ان کو اسلام پر قائم کیا ایسا ہی مسیح موعود کے وقت میں کئی لاکھ انسان اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی بن گئے اور یہ دونوں حالات قرآن شریف میں مذکور ہیں یعنی پیشگوئی کے طور پر ان کا ذکر ہے۔2 حضرت ابو بکر کی خلافت 342" حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں آتا ہے کہ جب صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی یی کم کی وفات کا علم ہو گیا تو انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔اس اجتماع میں مسئلہ خلافت پر گفتگو ہوئی۔انصار خزرج کے راہنما سعد بن عُبادہ کے گرد جمع ہو گئے۔343