اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 126

اصحاب بدر جلد 2 126 حضرت ابو بکر صدیق آیات قرآنیہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپؐ کی وفات ثابت کی تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ گویاںہ دونوں آیتیں آج ہی نازل ہوئی ہیں اور میرے گھٹنوں میں میرے سر کو اٹھانے کی طاقت نہ رہی۔میرے قدم لڑکھڑائے اور میں بے اختیار شدت صدمہ سے زمین پر گر پڑا۔340❝ مسلمانوں کا پہلا اجماع۔۔۔۔وفات مسیح اسی حوالے سے مسلمانوں کا جو پہلا اجماع ہے اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”رسول کریم صلی الیہ کم سے پہلے تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں جن میں مسیح بھی شامل ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی امیدم کی وفات پر جب مسلمان گھبر اگئے اور یہ صدمہ ان کے لیے نا قابل برداشت ہو گیا تو حضرت عمر نے اس گھبراہٹ میں تلوار کھینچ لی اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم صلی علیکم وفات پاگئے ہیں تو میں اس کی گردن کاٹ دوں گا۔رسولِ کریم صلی املی کم قوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت موسیٰ کی طرح خد ا سے ملنے گئے ہیں اور پھر واپس آئیں گے اور منافقوں کو ختم کریں گے پھر وفات پائیں گے۔گویا ان کا یہ عقیدہ تھا کہ منافق جب تک ختم نہ ہوں آنحضرت صلی علی کرم فوت نہیں ہو سکتے اور چونکہ منافق آپ کی وفات تک موجود تھے اس لیے وہ سمجھے کہ آپ فوت نہیں ہوئے ہیں۔حضرت ابو بکر جو اس وقت مدینہ کے پاس باہر ایک گاؤں میں گئے ہوئے تھے تشریف لائے۔آنحضرت صلی ال نیم کے گھر گئے۔رسولِ کریم ملی تعلیم کا جسم مبارک دیکھا۔معلوم کیا کہ آپ واقع میں وفات پاچکے ہیں۔اس پر پھر آپ واپس باہر تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے آئے کہ اللہ تعالیٰ رسولِ کریم صلی کم کو دو موتیں نہیں دے گا۔یعنی ایک موت جسمانی اور دوسری موت روحانی کہ آپ کی وفات کے ساتھ ہی مسلمان بگڑ جائیں۔پھر آپ سیدھے صحابہ کے اجتماع میں گئے اور لوگوں سے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضرت عمر تلوار لیے کھڑے تھے اور یہ ارادہ کر کے کھڑے تھے کہ اگر کسی نے محمد رسول اللہ صلی الیکم کی وفات کا اعلان کیا تو میں اس کو قتل کر دوں گا۔حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو وہی بات کی که مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدَمَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ لَه جو شخص محمد رسول اللہ صلی علیکم کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد لی لی کہ فوت ہو چکے ہیں اور جو کوئی شخص ط اللہ تعالیٰ کی عبادت کر تا تھا وہ خوش ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور کبھی فوت نہیں ہو گا۔پھر آپ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ محمد صلى ال علم اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور آپ سے پہلے جتنے بھی رسول گزرے ہیں سب فوت ہو چکے ہیں۔پھر آپ کیوں نہ فوت ہوں گے۔اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل کیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور اسلام کو چھوڑ دو گے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب قرآنِ کریم کی یہ آیت حضرت ابو بکر صدیق نے پڑھی تو میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ یہ آیت ابھی نازل ہوئی ہے اور مجھ پر ظاہر ہو گیا کہ رسول کریم صلی الیم فوت ہو