اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 128

حاب بدر جلد 2 سة 128 حضرت ابو بکر صدیق حضرت سعد بن عبادہ ان دنوں علیل تھے۔انہوں نے انصار کی قربانیوں اور خدمت اسلام کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خلافت کا حق دار قرار دیا مگر انصار نے حضرت سعد بن عبادہ کو ہی خلافت کے لیے موزوں قرار دے دیا مگر ابھی انصار نے ان کی بیعت بھی نہ کی تھی کہ ان میں سے ہی کسی نے یہ سوال کر دیا کہ اگر مہاجرین نے ان کی خلافت کو تسلیم نہ کیا تو کیا ہو گا؟ اس پر ایک آدمی نے تجویز دی کہ ایک آدمی انصار میں سے اور ایک آدمی مہاجرین میں سے خلیفہ ہو مگر حضرت سعد بن عبادہ نے اسے بنو اوس کی کمزوری قرار دیا۔جب انصار سقیفہ بنو ساعدہ میں خلافت کے متعلق بحث کر رہے تھے حضرت عمر بن خطاب ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ کرام مسجد نبوی میں نبی کریم صلی الہ ظلم کے وصال کے سانحہ عظیم کے بارے میں ذکر کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق حضرت علی اور دوسرے اہل بیت رسول کریم صلی علیکم کی تجہیز و تکفین کے انتظامات میں مصروف تھے۔کسی کو خلافت کے بارے میں ہوش نہ تھا اور اس بات سے بے خبر تھے کہ انصار اس مسئلہ پر غور کرنے کے لیے جمع ہو چکے ہیں اور انصار میں سے کسی کو امیر چنا چاہتے ہیں۔344 طبقات کبری میں لکھا ہے کہ حضرت عمررؓ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔رسول اللہ صلی علیم کی زبان مبارک سے آپ کو اس امت کا امین قرار دیا گیا ہے۔اس پر حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر سے کہا جب سے آپ نے اسلام قبول کیا ہے میں نے اس سے پہلے بھی آپ میں ایسی غفلت والی بات نہیں دیکھی۔کیا تم میری بیعت کرو گے جبکہ تم میں صدیق اور ثانی اثنین یعنی حضرت ابو بکر موجود ہیں۔345 اسی گفتگو کے دوران انہیں اجتماع انصار کی اطلاع ملی۔اس پر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر صدیق کو اندر پیغام بھیج کر بلایا کہ ایک ضروری کام ہے۔حضرت ابو بکر نے تجہیز و تکفین کی مصروفیت کا عذر کر کے باہر آنے سے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عمرؓ نے دوبارہ پیغام بھیجا۔ایک ایسی فوری بات پیش آئی ہے کہ آپ کی موجودگی وہاں ضروری ہے جس پر حضرت ابو بکر باہر تشریف لائے اور حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی ایم کی تجہیز و تکفین سے اس وقت اور کون سا اہم کام ہے جس کے لیے تم نے مجھے بلایا ہے ؟ حضرت عمر نے کہا آپ کو پتہ ہے کہ انصار سقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور ارادہ کر رہے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنادیں؟ ان میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر قریش میں سے۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ کے ہمراہ سقیفہ بنو ساعدہ پہنچے۔وہاں ابھی بحث جاری تھی۔حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ ان کے درمیان جا کر بیٹھ گئے۔346 ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم انصار کی طرف چل پڑے جب ہم ان سے قریب پہنچے ان میں سے دو صالح آدمیوں غویم بن سَاعِدہ اور مغن بن عدی سے ملاقات ہوئی۔ان